ورلڈ کپ دور نہیں، کپتانی کی چھیڑخانی نہ کی جائے

مصباح الحق نے بحیثیت کپتان 29 میں سے 12 ٹیسٹ میچز جیتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمصباح الحق نے بحیثیت کپتان 29 میں سے 12 ٹیسٹ میچز جیتے ہیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کی شکست کے بعد مصباح الحق کی کپتانی ایک بار پھر تنقیدکی زد میں آئی ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے انہیں کپتانی سے ہٹائے جانے کا مطالبہ پھر سے زور پکڑگیا ہے۔

لیکن سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ زیادہ دور نہیں لہذٰا اس مرحلے پر کپتان کی تبدیلی کی چھیڑ خانی نہیں ہونی چاہیے۔

رمیزراجہ نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ مصباح الحق ایک ایسی ٹیم کے کپتان ہیں جس کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔

’کبھی تو وہ بہت اچھا کھیلتی ہے اور کبھی اس سے زیادہ بری کارکردگی کوئی اور ٹیم نہیں دکھاتی اور مصباح اس ٹیم کو کافی عرصے سے سنبھالتے آئے ہیں اور ان کی کپتانی کا ریکارڈ بھی بہت اچھا ہے لوگ چاہے جتنی مرضی اس پر تنقید کریں۔‘

واضح رہے کہ مصباح الحق نے بحیثیت کپتان 29 میں سے 12 ٹیسٹ میچز جیتے ہیں جو کسی بھی پاکستانی کپتان کی تیسری سب سے زیادہ فتوحات ہیں جبکہ 74 ون ڈے میچوں میں وہ 40 جیت چکے ہیں اور عمران خان وسیم اکرم اور انضمام الحق کے بعد وہ چوتھے کامیاب ترین کپتان ہیں۔

رمیز راجہ نے کہا کہ مصباح الحق 40 سال کی عمر میں بھی آئی سی سی کی رینکنگ میں 10 ابتدائی بیٹسمینوں میں شامل ہیں تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت ان پر بہت زیادہ دباؤ ہے کیونکہ سیزن کی ابتدا ان سے اچھی نہیں ہوئی ہے۔ ٹیم بھی ہاری ہے اور وہ خود رنز نہیں کر پائے ہیں جیسا کہ وہ ہر سال کرتے آئے ہیں لہذٰا اس پریشر سے نکلنے کے لیے انھیں رنز کرنے ہوں گے اسی میں ان کی بچت ہے۔

انھوں نے کہا کہ 40 سال کی عمر میں بیٹسمین کے ریفلیکسز سست ہو جاتے ہیں اور اسی لیے فارم میں واپسی میں وقت لگتا ہے۔

رمیز راجہ نے کہا کہ مصباح الحق کا آؤٹ پر فارم ہونا ان کی کپتانی پر بھی اثر انداز ہوگا اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس صورت میں ’پینک بٹن‘ دبائے گا یا نہیں؟

رمیز راجہ نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں ورلڈ کپ تک مصباح الحق کو کپتان برقرار رکھا جائے کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ابھی تک کوئی غیرمعمولی ٹیلنٹ دریافت نہیں کیا ہے اگر ایسا ہوتا تو مصباح الحق 40 سال اور یونس خان 37 سال کی عمر میں نہیں کھیل رہے ہوتے لہذٰا جب آپ کے پاس اگر کوئی ایسا ٹیلنٹ نہیں جو ان دونوں کی جگہ لے سکے تو پھر چھیڑخانی کی ضرورت نہیں ہے۔

سابق کپتان نے کہا کہ ٹیم منیجمنٹ کو بنچ پر بیٹھے کھلاڑیوں کو بھی آزمانا چاہیے تاکہ ان کی صلاحیتوں کا بھی اندازہ ہوسکے۔

واضح رہے کہ سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں اوپنر خرم منظور کی مایوس کن کارکردگی کے باوجود شان مسعود کو موقع نہ مل سکا اسی طرح ون ڈے سیریز میں لیفٹ آرم سپنر ذوالفقار بابر اور انور علی موقع ملے بغیر ہی واپس لوٹ آئے۔