’سعید اجمل کی وجہ سے ایسکس پیچھے رہ گئی‘

،تصویر کا ذریعہReuters
انگلش کاؤنٹی ایسکس کے ہیڈ کوچ پال گریسن کہتے ہیں کہ اگر کاؤنٹی کے ایمپائر ذرا بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ورسٹرشائر کے سپنر سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کو رپورٹ کرتے تو ان کی ٹیم کی پوزیشن بہتر ہو جاتی۔
کرکٹ کے بین الاقوامی ادارے آئی سی سی نے گزشتہ ماہ مشکوک باؤلنگ ایکشن کی پاداش میں پاکستانی آف سپنر سعید اجمل پر پابندی عائد کر دی تھی۔
سعید اجمل نے ورسٹرشائر کی طرف سے کھیلتے ہوئے کاؤنٹی چیمپیئن شپ کے میچوں میں 63 وکٹیں حاصل تھیں۔
گریسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے ذرا بھی شک نہیں ہے کہ اگر ورسٹرشائر کےپاس اجمل نہ ہوتا تو ہم اس سال اوپر آ جاتے۔‘
’وہ (ورسٹرشائر) آدھے سیزن تک مشکلات کا شکار تھے جب وہ (اجمل) پاکستان کے لیے کھیل رہے تھے۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا لگے کہ ہم تلخ ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ ہمیں اس سال اوپر جانا چاہیئے تھا۔‘
اجمل نے جولائی کے وسط کے بعد سے، جب وہ پاکستان کے لیے کھیلنے چلے گئے تھے، ورسٹرشائر کی طرف سے نہیں کھیلا۔ لیکن سری لنکا کی سیریز کے بعد ان کے ایکشن کو مشکوک قرار دیا گیا تھا۔
گریسن کہتے ہیں کہ ان کا ایکشن چکنگ کی وجہ مشکوک قرار دیا گیا ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔
انھوں نے کہا کہ انھوں نے کئی ایمپائروں سے بات کی، سب نے کہا کہ وہ (اجمل) چکنگ کرتے ہیں، لیکن یہ نہیں معلوم کہ ان کو انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ کی حمایت حاصل بھی تھی کہ نہیں۔
’مجھے نہیں معلوم کہ وہ یہ کرنے کے لیے تیار تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ ان کی تشویش بس یہ ہے کہ ’کاش ہمارے انگلش ایمپائرز سیزن کے آغاز میں اس طرح کی بہادری کا مظاہرہ کرتے۔‘
ورسٹرشائر نے ڈویژن ٹو میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی جو کہ ایسکس سے آٹھ پوائنٹس آگے تھی۔



