مائیکل شوماکر ہسپتال سے گھر منتقل

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سابق فارمولا ون چیمپیئن مائیکل شوماکر کو صحت میں بہتری کے پیشِ نظر ہسپتال سے گھر منتقل کر دیا گیا ہے۔
شوماکر کی مینیجر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شوماکر کو دوبارہ مکمل صحت یابی کے لیے ’ایک طویل اور مشکل راستہ‘ طے کرنا ہوگا۔
گذشتہ سال دسمبر میں فرانس میں سکیئنگ کرتے ہوئے شوماکر کے سر میں شدید چوٹ آئی تھی اور جون سے ان کا علاج سوئٹزرلینڈ کے ایک ہسپتال میں جاری تھا۔
جون میں شوماکر کے خاندان نے اعلان کیا تھا کہ وہ اب کوما میں نہیں ہیں۔ ان کے دماغ میں سوجن کو کم کرنے کے لیے انھیں ڈاکٹر کوما میں رکھ رہے تھے۔
حادثے کے بعد چھ ماہ تک شوماکر کا علاج فرانس کے ایک ہسپتال میں چلا، پھر انھیں سوئٹزرلینڈ کے ہسپتال میں لایا گیا۔
شوماکر کا گھر جنیوا کے پاس گلاڈ میں ہے۔
منگل کو جاری بیان میں ان کی مینیجر سبينے كیہم نے کہا: ’اس کے بعد مائیکل شوماکر کا علاج گھر پر جاری رہے گا۔ گذشتہ ہفتوں اور مہینوں میں ان کی طبیعت میں بہت بہتری آئی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
یاد رہے کہ فرانس میں گذشتہ برس 29 دسمبر کو سکیئنگ کے دوران شدید زخمی ہونے کے بعد سے شوماکرگرینوبل کے ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔
سکیئنگ کے دوران پیش آنے والے اس حادثے کی تحقیقات کرنے والے ماہرین کہتے رہے ہیں کہ جب میربل کے پہاڑوں میں یہ حادثہ پیش آیا اس وقت شوماکر کی رفتار ’سکیئنگ کے اچھے کھلاڑی‘ جتنی ہی تھی۔
جرمنی سے تعلق رکھنے والے مائیکل شوماکر نے 2012 میں دوسری بار ریٹائرمنٹ لی تھی۔ انھیں فرنچ ایلپس کے پہاڑی سلسلے میں واقع ایک الپائن ریزورٹ میں سکیئنگ کے دوران اس وقت سر پر چوٹ آئی تھی جب ان کا سر ایک چٹان سے ٹکرا گیا تھا۔
اس ٹکر کے نتیجے میں ان کا ہیلمٹ ٹوٹ گیا تھا جسے بعد میں حادثے کی تحقیقات کرنے والے ماہرین کے حوالے کر دیا گیا تھا تا کہ وہ ہیلمٹ پر لگے ہوئے کیمرے میں ریکارڈ شدہ مواد کی مدد سے حادثے کی وجوہات جان سکیں۔



