آسٹریلیا: سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کا تجزیہ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستانی آف سپنر سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کا ٹیسٹ پیر کو آسٹریلوی شہر برزبین کے نیشنل کرکٹ سینٹر میں ہوا ہے۔
سعید اجمل کو مشکوک بولنگ ایکشن کی رپورٹ کے بعد اس جائزے کے لیے برزبین بھیجا گیا تھا جہاں آئی سی سی کے منظور شدہ ہیومن موومنٹ ماہرین کی سہولتیں موجود ہیں۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان گال میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران امپائروں نے سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو قواعد وضوابط کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کی باضابطہ رپورٹ کی تھی۔
قوانین کے مطابق سعید اجمل کو اپنے بولنگ ایکشن کی درستگی کے لیے 21 روز دیے گئے تھے۔
سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز ختم ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے انھیں فوری طور پر آسٹریلیا روانہ کرنے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے وہ سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز نہیں کھیل رہے ہیں۔
آئی سی سی کے مطابق سعید اجمل کا بولنگ ایکشن جانچنے کا عمل آئی سی سی کے حکام کی نگرانی میں ہوگا جس کے لیے کرکٹ آسٹریلیا کی سہولیات استعمال ہوں گی۔
سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کے ٹیسٹ کے نتیجے کا اعلان آئی سی سی کرے گی اور یہ رپورٹ آنے میں دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔
سعید اجمل کے بولنگ ایکشن پر دوسری مرتبہ اعتراض ہوا ہے۔
مشکوک بولنگ ایکشن کے ضمن میں آئی سی سی نے حالیہ دنوں میں سخت موقف اپنایا ہے اور صرف دو ماہ کے دوران پانچ بولروں کے بولنگ ایکشن رپورٹ ہو چکے ہیں اور یہ تمام بولرز آف سپنر ہیں۔
جولائی میں سری لنکا کے سینانائیکے اور نیوزی لینڈ کے ولیم سن جبکہ اس ماہ پاکستان کے سعید اجمل، زمبابوے کے پراسپر ُاتسیا اور بنگلہ دیش کے سہاگ غازی کے بولنگ ایکشن پر امپائر رپورٹ کر چکے ہیں۔
گذشتہ دسمبر میں ویسٹ انڈیز کے آف اسپنر شین شلنگفرڈ کے بولنگ ایکشن پر بھی اعتراض ہوا تھا۔ انھیں اس سال مارچ میں کلیئر کردیاگیا تھا لیکن اب انھیں آف سپنروں کی مخصوص گیند ’دوسرا‘ کرانے کی اجازت نہیں۔



