مصباح الحق پر پہلے سے زیادہ دباؤ

مصباح الحق کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے سنہ 2012 میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ کیا تھا لیکن اس کے بعد سے پاکستانی ٹیم دوسال کے عرصے میں ایک بھی ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمصباح الحق کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے سنہ 2012 میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ کیا تھا لیکن اس کے بعد سے پاکستانی ٹیم دوسال کے عرصے میں ایک بھی ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سری لنکا کے خلاف وائٹ واش کے ساتھ ہی مصباح الحق کی کپتانی پر اعتراضات میں شدت آ گئی ہے اور کولمبو میں ٹیسٹ میچ کے بعد پریس کانفرنس میں بھی ان سے اپنے مستقبل کے بارے میں سوال کیا گیا ہے۔

مصباح الحق نے اس سوال کا براہ راست جواب دینے کے بجائے صرف یہ کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایک سیریز یا دو میچ ہارنے سے کچھ اخذ کرنا شروع کردیا جائے۔

’اس طرح کے نتائج دوسری ٹیموں کے بھی رہے ہیں۔ سری لنکا کی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف آخری ہوم سیریز ہاری ہے۔ شکست کے بعد وہ بھی سب کچھ تبدیل کرسکتی تھی۔ آپ ایک سیریز میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا پاتے لیکن یہی اس کھیل کی خوبصورتی ہے کہ ہم اگلی سیریز جیتنے کی کوشش کریں۔‘

مصباح الحق کو اس وقت پہلے سے زیادہ دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ ٹیم شکست سے دوچار ہوئی ہے اور خود وہ بھی بیٹنگ میں ناکام رہے ہیں جبکہ ماضی میں ٹیم کی بری کارکردگی کے باوجود وہ بیٹنگ میں کامیاب رہے تھے۔

مصباح الحق کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے سنہ 2012 میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ کیا تھا لیکن اس کے بعد سے پاکستانی ٹیم دوسال کے عرصے میں ایک بھی ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ اس دوران اس نے 15 میں سے صرف تین ٹیسٹ میچز جیتے ہیں اور نو میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سری لنکا کے خلاف دو صفر کی شکست کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں تیسرے سے چھٹے نمبر پر آگئی ہے۔

مصباح اس سیریز کی چار اننگز میں 75. 16 کی اوسط سےصرف 67 رنز بنائے جو پانچ سال میں ان کی سب سے خراب بیٹنگ کارکردگی ہے۔

سنہ 2009 میں نیوزی لینڈ کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں مصباح الحق نے25. 15 کی اوسط سے 61 رنز بنائے تھے جس کے بعد سے 13 سیریز میں ان کی تین سنچریاں اور 22 نصف سنچریاں شامل تھیں۔

سنہ 2013 مصباح الحق کا بہترین سال تھا جس میں انھوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں 1373 رنز بنائے تھے جو اس سال کسی بھی بیٹسمین کے سب سے زیادہ رنز تھے۔

گزشتہ سال کی آخری ٹیسٹ سیریز میں جو سری لنکا کے خلاف ہی تھی مصباح الحق نے ایک سنچری اور تین نصف سنچریاں بنائی تھیں، یہی وجہ ہے کہ موجودہ دورے میں بھی ٹیم ان کی بیٹنگ پر کافی انحصار کر رہی تھی لیکن ان کے سکور نہ کرنے سے بھی ٹیم بیٹھ گئی کیونکہ سوائے وکٹ کیپر سرفراز احمد کے کوئی بھی بلے باز اس سیریز میں مستقل مزاجی سے رنز نہ بنا سکا۔

سرفراز احمد نے سیریز میں ایک سنچری اور تین نصف سنچریوں کی مدد سے 265 رنز بنائے لیکن مستند بلے بازوں کی غیرذمہ داری ٹیم کو لے ڈوبی۔

یونس خان نے گال ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں سنچری سکور کی لیکن اس کے بعد ان کا بیٹ بھی خاموش ہوگیا اسی طرح اسد شفیق بھی ایک ہی اننگز میں چمکے۔ ٹاپ آرڈر بلے باز خرم منظور، احمد شہزاد اور اظہرعلی کی نیّا ایک ساتھ ڈوبی اور ٹیم کو بھی لے ڈوبی۔

مصباح الحق 40 سال کے ہوچکے ہیں لیکن اس وقت وہ اور یونس خان ٹیم کے دو سپر فٹ کھلاڑی ہیں ان کی بیٹنگ صلاحیت سے انکار نہیں اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ مصباح الحق ذہنی طور پر بہت مضبوط کرکٹر واقع ہوئے ہیں جو اس وقتی ناکامی سے جلد خود کو نکال لیں گے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی اکثریت مصباح کے کپتانی کے طریقہ کار سے اختلاف رکھتی ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ دفاعی انداز اختیار کرتے ہیں اور اس میں تبدیلی لائے بغیر وہ مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیرمین شہریارخان نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں مصباح الحق کی کپتانی پر مکمل اعتماد ظاہر کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ وہی عالمی کپ تک کپتان رہیں گے لیکن پاکستانی کرکٹ میں کوئی بھی بات حتمی نہیں ہے۔

مصباح الحق کو بحیثیت کپتان مثبت نتائج دینے ہوں گے تاکہ آنے والے دنوں میں وہ اس دباؤ سے نکل سکیں جو اس وقت ان پر قائم ہے۔

سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز اور پھر آسٹریلیا کے خلاف متحدہ عرب امارات ہونے والی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز مصباح الحق کے لیے کڑی آزمائش ثابت ہوں گی۔