پاکستانی ٹاپ آرڈر ایک مرتبہ پھر ناکام

جے وردھنے اور سنگاکارا نے اپنی انیس ویں سنچری پارٹنرشپ مکمل کی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجے وردھنے اور سنگاکارا نے اپنی انیس ویں سنچری پارٹنرشپ مکمل کی

کولمبو ٹیسٹ چوتھے روز پاکستانی بیٹنگ ایک مرتبہ پھر ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے۔ 271 رنز کے ہدف کے تعاقب میں اب سے کچھ دیر قبل تک پاکستانی ٹیم نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 56 رنز بنائے ہیں۔

آوٹ ہونے والے کھلاڑی خرم منظور، احمد شہزاد، اظہر علی اور کپتان مصباح الحق ہیں۔

اس سے پہلے سری لنکا نے دوسری اننگز میں 282 رنز بنائے تھے اور پاکستان کو ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے 271 رنز کا ہدف دیا تھا۔

<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.com/sport/cricket/scorecard/89446" platform="highweb"/></link>

فاسٹ بولر جنید خان دھمیکا پرساد کا باؤنسر چہرے پر لگنے کے بعد ڈریسنگ روم میں اپنا توازن کھوبیٹھے اور انہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کے ٹیسٹ ہوئے ہیں۔

تیسرے روز کے اختتام پر سری لنکا نے دو وکٹوں کے نقصان پر 177 رنز بنا رکھے تھے اور سری لنکن بیٹنگ کی سب سے قابل اعتماد جوڑی آخری بار کسی ٹیسٹ اننگز میں یکجا تھی۔ جے وردھنے اور سنگاکارا نے اپنی انیس ویں سنچری پارٹنرشپ مکمل کی۔ دونوں کھلاڑی نصف سنچریاں بنا کر آؤٹ ہو چکے ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ چھ ہزار نو سو بیس رنز بنانے والی جوڑی سچن تندولکر اور راہول ڈراوڈ کی ہے جبکہ اسی بھارتی جوڑی نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ بیس سنچری پارٹنرشپس بھی قائم کی ہیں۔

تیسرے روز کھانے کے وقفے تک پاکستانی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 332 رنز بنا کر آوٹ ہوگئی تھی اور ان کی بارہ رنز کی برتری تھی۔

تیسرے روز کی صبح پاکستان کی بیٹنگ کو مشکلات سے نکالنے والے وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد رہے جنھوں نے 103 رنز بنائے۔ یہ سرفراز احمد کی اور پاکستان کے کسی بھی وکٹ کیپر بیٹسمین کی سری لنکا میں پہلی ٹیسٹ سنچری تھی۔ یہ پانچ سال میں پاکستانی وکٹ کیپر کی پہلی ٹیسٹ سنچری بھی ہے۔

دوسری جانب سری لنکا کے بولر رنگنا ہیراتھ نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 9 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ بائیں ہاتھ کے کسی بولر نے ایک اننگز میں نو وکٹیں حاصل کی ہیں ۔اس سے قبل انگلینڈ کے جانی برگس نے جنوبی افریقہ کےخلاف اٹھارہ سی نواسی کے کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کی ایک اننگز میں آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں۔

اپنا آخری ٹیسٹ میچ کھیلنے والے مایہ ناز بلے باز مہیلا جے وردھنے 59 رنز بنا کر آوٹ ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناپنا آخری ٹیسٹ میچ کھیلنے والے مایہ ناز بلے باز مہیلا جے وردھنے 59 رنز بنا کر آوٹ ہو چکے ہیں

دوسرے روز کھیل کے اختتام پر پاکستان نے پہلی اننگز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 244 رنز بنا رکھے تھے اور سری لنکا کو 76 رنز کی برتری حاصل تھی۔

پاکستانی اننگز میں اوپنرز خرم منظور اور احمد شہزاد نے ٹیم کو 47 رنز کا نسبتاً بہتر آغاز فراہم کیا۔

اس شراکت کا خاتمہ رنگنا ہیراتھ نے خرم کو آؤٹ کر کے کیا۔

خرم کے جانے کے بعد احمد شہزاد نے نہ صرف نصف سنچری مکمل کی بلکہ اظہر علی کے ساتھ مل کر دوسری وکٹ کے لیے بھی 63 رنز بنائے۔

احمد شہزاد 58 رنز بنانے کے بعد پریرا کی واحد وکٹ بنے۔ اس موقع پر پاکستان کا سکور 110 رنز تھا۔

پاکستان کی اگلی تین وکٹیں سکور میں صرف 30 رنز کے اضافے کے دوران گر گئیں۔ یہ تینوں وکٹیں بھی ہیراتھ نے حاصل کیں۔

ایک موقع پر 140 کے مجموعی سکور پر پاکستان کے پانچ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے لیکن پھر سرفراز احمد نے اسد شفیق کے ساتھ مل کر 93 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔

اسد شفیق دوسرے دن آؤٹ ہونے والے چھٹے اور آخری پاکستانی کھلاڑی تھے۔ انھوں نے 42 رنز بنائے اور ہیراتھ کی پانچویں وکٹ بنے۔

جب کھیل ختم ہوا تو سرفراز احمد نصف سنچری بنانے کے بعد 66 اور عبدالرحمان ایک رن پر ناٹ آؤٹ تھے۔

اس سے قبل سری لنکا کی ٹیم پہلے روز کے سکور میں کُل 59 رنز کا اضافہ کر کے 320 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

پاکستان کی جانب سے جنید خان نے 87 رنز دے کر پانچ اور ریاض نے 88 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔

جمعرات کو شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستانی ٹیم گال ٹیسٹ میں سات وکٹوں کی ہزیمت کے سبب سری لنکا کے خلاف پانچ سال میں تیسری ٹیسٹ سیریز ہارنے کے خطرے سے دوچار ہے۔

پاکستانی ٹیم مصباح الحق کی قیادت میں انگلینڈ کے خلاف کلین سویپ کے بعد سے ایک بھی ٹیسٹ سیریز نہیں جیت سکی ہے۔ اس دوران اس نے تین سیریز برابر کھیلی ہیں اور دو میں اسے شکست ہوئی ہے۔