نجم سیٹھی پی سی بی کے چیئرمین کے عہدے سے مستعفیٰ

نجم سیٹھی نے کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں اپنا استعفیٰ پیش کیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننجم سیٹھی نے کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں اپنا استعفیٰ پیش کیا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

نجم سیٹھی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ آئندہ بورڈ کے انتخابات میں حصہ بھی نہیں لیں گے۔

تاہم نجم سیٹھی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ نئے عبوری چیئرمین کی تقرری تک بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے کام کرتے رہیں گے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری برانچ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تعیناتی سے متعلق سے درخواستوں کی سماعت جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ وزیرِ اعظم نے اُنھیں بورڈ کی مینیجمنٹ کمیٹی کا رکن مقرر کیا ہے اس لیے وہ چیئرمین کا عہدہ نہیں سنبھال سکتے۔ نجم سیٹھی نے عدالت میں اپنا استعفیٰ پیش کیا۔

ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ کے رکن جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سپریم کورٹ اس ضمن میں جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کو معطل کر چکی ہے اور نجم سیٹھی کو بطور چیئرمین اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بارے میں کہہ چکی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان حالات میں تمام پہلوؤں کو دیکھنا ہوگا اور قانون کے مطابق ان درخواستوں پر فیصلہ کیا جائے گا۔

اس سے پہلے بین الصوبائی رابطوں کی وزارت کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ کرکٹ بورٹ کے چیئرمین کی تقرری ایک انتظامی معاملہ ہے اور اگر عدالت یہ سجھتی ہے کہ حکومت عدالت کی مرضی کا چیئرمین لگائے تو یہ مشکل ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ انتظامی معاملات میں عدالت مداخلت کا اختیار نہیں رکھتی۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا انتظامی معاملات میں مداخلت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن عدالت یہ ضرور دیکھے گی کہ چیئرمین کرکٹ بورڈ کی تعیناتی میں میرٹ کو مدنظر رکھا گیا ہے یا نہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر کرکٹ بورڈ کا آئین اور ڈھانچہ جمہوری ہے تو اسے جمہوری انداز میں ہی چلا نا ہوگا۔ جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ عدالت اس معاملے کو بھی دیکھے گی کہ وزیر اعظم جو کرکٹ بورڈ کے سرپرستِ اعلیٰ ہیں، اس ادارے میں بے جا مداخلت تو نہیں کر رہے۔

یاد رہے کہ حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جمشید علی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا قائم مقام چیئرمین کے علاوہ کرکٹ بورڈ کا الیکشن کمشنر بھی مقرر کیا گیا تھا جو 30 روز میں کرکٹ بورڈ میں انتخابات کروانے کے پابند تھے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل نجم سیٹھی نے وزیرِ اعظم میاں نواز شریف سے بھی ملاقات کی تھی جس میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ نجم سیٹھی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔

بعدازاں میڈیا سے بات لرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ جب تک کرکٹ بورڈ کا عبوری چیئرمین نہیں آ جاتا اُس وقت تک وہ چیئرمین کی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے بعد انتظامی کمیٹی بحال ہوگئی ہے جس کے وہ سربراہ ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں چوہدری ذکاء اشرف کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی حثیت سے بحال کیا تھا جس کے خلاف نجم سیٹھی نے سپریم کورٹ سے حکمِ امتناعی حاصل کیا تھا۔