انصاف کا بول بالا مگر ادارہ بے یقینی کا شکار

پاکستان کرکٹ بورڈ کی اس بدلتی شکل میں سب سے زیادہ جگ ہنسائی ان فیصلوں کی ہوئی ہے جو ذکا اشرف اور نجم سیٹھی اپنے اپنے دور میں کرتے آئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI AFP Getty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان کرکٹ بورڈ کی اس بدلتی شکل میں سب سے زیادہ جگ ہنسائی ان فیصلوں کی ہوئی ہے جو ذکا اشرف اور نجم سیٹھی اپنے اپنے دور میں کرتے آئے ہیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، کراچی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات گزشتہ ایک سال سے عدالتی احکامات کے تابع رہے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں بظاہر آزاد عدلیہ کا ڈنکا بج رہا ہے لیکن پاکستان کا سب سے مقبول ترین کھیل اور اس کھیل کو چلانے والا ادارہ بے یقینی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔

اس ایک برس میں ذکا اشرف دوبار اپنے عہدے سے ہٹائے اور بحال کیے جا چکے ہیں۔ دونوں بار ان کے ہٹائے جانے کا فائدہ نجم سیٹھی کو ہوا جنھیں حکومت کی بھرپور حمایت حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ ذکا اشرف کی بحالی کے بعد وہ خود کو دوبارہ موثر رکھنے کے لیے حکومت کی طرف دیکھتے رہے ہیں۔

ممکن ہے کہ تیسری بار بھی ایسا ہی ہو کیونکہ اس بات کے اشارے مل چکے ہیں کہ حکومت ذکا اشرف کی بحالی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرے گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ حکومتی آرڈر کے ذریعے ایک بار پھر ذکا اشرف کو گھر بھیج دیا جائے جیسا کہ اس سال فروری میں ہوا تھا۔

حکومت شاید اب بھی ذکا اشرف کو قبول کرنے سے انکار کر دے

،تصویر کا ذریعہArif Ali AFP Getty Images

،تصویر کا کیپشنحکومت شاید اب بھی ذکا اشرف کو قبول کرنے سے انکار کر دے

پاکستان کرکٹ بورڈ کی اس بدلتی شکل میں سب سے زیادہ جگ ہنسائی ان فیصلوں کی ہوئی ہے جو ذکا اشرف اور نجم سیٹھی اپنے اپنے دور میں کرتے آئے ہیں کیونکہ چیئرمین کے تبدیل ہوتے ہوئے اس کے فیصلے بھی دوسرے کے لیے قابل قبول نہ رہے۔

جب نجم سیٹھی پہلی بار ذکااشرف کے ہٹائے جانے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین بنائےگئے تھے تو عدالت نے انھیں کسی بھی بڑے فیصلے سے روکے رکھا تھا لیکن حکومتی آرڈر کے ذریعے ذکا اشرف کو دوسری بارگھر بھیجنے کے بعد نجم سیٹھی کو تمام بڑے فیصلے کرنے کا مکمل اختیار مل گیا تھا اور انہوں نے ذکا اشرف کا بگ تھری کو تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ ہاں میں تبدیل کیا، ٹیم منیجمنٹ میں اہم تقرریاں کیں اور ذکا اشرف کے مقرر کردہ چیف سلیکٹر بھی تبدیل کردیے۔

نجم سیٹھی جب یہ تمام تقرریاں کر رہے تھے تو یہ سوال ذہنوں میں موجود تھا کہ وہ خود چار ماہ کے لیے کرکٹ بورڈ میں آئے ہیں لیکن کوچنگ سٹاف کی تقرریاں دو دوسال کے لیے کر رہے ہیں حالانکہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ چونکہ انھیں حکومت کی آشیرباد حاصل ہے لہذا ان کی میعاد میں توسیع کوئی مسئلہ نہیں ہوگی لیکن اب تبدیل شدہ صورتحال میں یہ تقرریاں بڑی اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔

نجم سیٹھی کو حکومت کی بھرپور حمایت حاصل ہے

،تصویر کا ذریعہArif Ali AFP Getty Images

،تصویر کا کیپشننجم سیٹھی کو حکومت کی بھرپور حمایت حاصل ہے

ذکااشرف نے بھی یہی کیا تھا کہ بے یقینی صورتحال کے باوجود انہوں نے محمد اکرم کو دوسال کے لیے بولنگ کوچ بنا دیا تھا اور جب نجم سیٹھی آئے تو وہ محمد اکرم کو اس لیے نہیں ہٹا پائے کیونکہ معاہدہ ختم کرنے پر انہیں ایک بھاری رقم اکرم کو ادا کرنی پڑتی لہذا ایڈجسٹمنٹ کے طور پر انہوں نے اکرم کو اکیڈمی کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ سلیکٹر بھی بنا دیا۔

اگر نجم سیٹھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں یا پھر کوئی حکومتی آرڈر انہیں کرکٹ بورڈ میں برقرار رکھتا ہے تو اس صورت میں ان کے وہ تمام فیصلے بھی برقرار رہیں گے لیکن اگر عدالتی حکم پر ذکا اشرف کو پاکستان کرکٹ بورڈ میں دوبارہ داخل ہونے کا موقع مل جاتا ہے تو یقینی طور پر وہ نجم سیٹھی کے کئی فیصلے منسوخ بھی کریں گے اور کئی چہرے بھی اپنے اردگرد نہ دیکھنا چاہیں گے۔

موجودہ صورتحال میں بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک ایسے ادارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو عدم استحکام کا شکار ہے اور اس کا کوئی والی وارث نہیں کیونکہ دنیا بھر کے کرکٹ بورڈز اس ایک برس میں بہت سے اہم معاملات دو مختلف چیئرمین حضرات سے طے کر چکے ہیں اور دونوں کے تبدیل ہونے سے انھیں اہم فیصلے اور وعدے بھی پورے ہوتے نظر نہیں آتے۔