’ٹم کرول کو اس کے قد کی وجہ سے ترجیح دی‘

،تصویر کا ذریعہGetty
ہالینڈ کے فٹبال ٹیم کے کوچ لوئی وین گال نے کہا ہے کہ کوسٹا ریکا کے خلاف کوارٹر فائنل کے پنلٹی شوٹ آؤٹ مرحلے میں ریگولرگول کپیر کی بجائے متبادل گول کیپر ٹم کرول کو ان کی طویل قامت کی وجہ سے کھیلایا۔
ہالینڈ کے کوچ کے مطابق برطانوی فٹبال کلب نیوکاسل کلب کی جانب سے کھیلنے والے ٹم کرول کا قد چھ فٹ چار انچ ہے جبکہ باقاعدگی سے ٹیم میں گول کیپنگ کی ذمہ داری ادا کرنے والے گول کیپر جیپسر سلیسن کا قد چھ فٹ دو انچ ہے۔
پنلٹی شوٹ آؤٹ میں متبادل گول کیپر نے دو گول بچا کر اپنی ٹیم کو سیمی فائنل میں پہنچا دیا۔
کوچ کے مطابق’ہم سب کا خیال تھا کہ ٹم پنلٹی روکنے کے لیے بہترین گول کیپر ہیں، وہ دراز قد ہیں اور اسی وجہ سےگول پوسٹ میں زیادہ جگہ پر گیند تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
کوچ لوئی وین گال کے مطابق’اس حکمت عملی نے کام کیا اور بہت خوبصورت تھا اور مجھے اس پر فخر ہے۔‘
ہالینڈ ورلڈکپ کی آخری چار ٹیموں میں سے واحد ٹیم ہے جس نے کبھی یہ ٹورنامنٹ نہیں جیتا ہے۔
کوچ نے ٹیم کے ریگولر گول کیپر جیپسر کو میچ کے پنلٹی شوٹ آؤٹ مرحلے میں پہنچنے کی صورت میں ان کو تبدیلی کرنے کی حکمت عملی کے بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا۔ تاہم انھوں نے متبادل گول کیپر کرول کو پہلے بتایا دیا تھا کہ اس صورتحال میں ان کو میدان میں اتارا جا سکتا ہے۔
گول کیپر ٹیم کرول نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’میں حریف ٹیم پر نفیساتی طور پر حاوی ہوگیا، اگر آپ سب کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اس کو بہت زیادہ جارحانہ ہوئے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے۔
کرول پنلٹی شوٹ آؤٹ شروع ہونے سے پہلے کوسٹاریکا کے کھلاڑیوں سے بات کرنے اور انھیں یہ عندیہ دینے کی کوشش کرتے کہ وہ جانتے ہیں کہ گیند کہاں پھینکی جائے گی اور انھوں نے درست سمت میں جست لگا کر دو گول بچا لیے۔
کرول نے اپنی عمدہ کارکردگی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’یہ وہ چیز ہے جس کا میں لڑکپن میں خواب دیکھا کرتا تھا کہ ایسا لمحہ آئے جب میں ایک نازک صورتحال میں ٹیم کو بچاؤ اور باقی تمام لڑکے میرے طرف بھاگتے ہوئے آئیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
کرول نے عمدہ کارکردگی کی وجہ سے اپنی ٹیم کو سیمی فائنل میں تو پہنچا دیا ہے لیکن سیمی فائنل میں ٹیم کے ریگولر گول کیپر ہی میدان میں ہوں گے کیونکہ ٹیم کے کوچ کے مطابق اس بارے میں کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ آئندہ کے میچ میں کون گول کیپر ہو گا۔
’ہمیں یہ لگا تھا کہ اس مرحلے میں ٹم کرول بہتر ثابت ہو سکتے ہیں۔‘
کوسٹاریکا کے مڈ فیلڈر بورجرز سیلسو نے گول کیپر کو آخری لمحات پر تبدیل کرنے پر کہا کہ’میں نے ایسی صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی لیکن وہ ٹھیک تھے کیونکہ اس نے اپنا کام کر دیکھایا۔‘
کرول کو اس وقت تبدیل کیا گیا جب میچ کا اضافی وقت بھی ختم ہونے میں کچھ لمحے باقی تھی اور دونوں ٹیمیں گول کرنے میں ناکام رہی تھیں۔



