میسی پر تنقید اور سیلفیز کا ورلڈ کپ

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, شوبھن سکسینہ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے برازیل سے
سیلفیز کا ورلڈ کپ
جہاں تک فٹبال ورلڈ کپ کے کھیل کا تعلق ہے تو اس ورلڈ کپ کو اب تک کے سب سے بہترین ورلڈ کپ مقابلوں میں سے ایک مانا جا رہا ہے اور شائقین بھی یہاں کم لطف نہیں لے رہے ہیں۔
ٹورنامنٹ اپنے دوسرے مرحلے میں پہنچ رہا ہے اور خبر ہے کہ یہ ورلڈ کپ ابھی تک فی میچ اوسط کے حساب سےگولوں میں سب سے آگے ہے۔
اب تک کا اوسط 3.45 گول فی میچ ہے۔ اس ورلڈ کپ میں اب تک سب سے زیادہ ’اون گول‘ بھی ہوئے ہیں اور صرف پانچ دنوں کے اندر ہی سب سے زیادہ سرخ اور پیلے کارڈ بھی دکھائے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ یہ ورلڈ کپ اس بات میں بھی خاص ہے کہ اس میں کھلاڑیوں، کھیل سے وابستہ لوگوں اور مداحوں نے ڈھیر ساری سیلفيز بھی لی ہیں۔
اب جس تعداد میں سیلفيز لی جا رہی ہیں اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جا رہی ہیں اس حساب سے تو لگتا ہے کہ سیلفيز ورلڈ کپ کو جیت چکی ہیں۔
کس کس سے ’ کِس‘

،تصویر کا ذریعہShobhan Saxena
برازیل کی ایک خاتون صحافی سبینا سموناتو کو دوسری بار اتوار کے روز براہ راست ٹی شو کے دوران کس کر لیا گیا۔
پہلی بار کروئیشیا کے ایک مداح نے ان کا اچانک بوسہ لے کر انھیں حیران کر دیا تھا۔ اس وقت سبینا ’ایس پي ٹي وي‘ پر ایک پروگرام پیش کر رہی تھیں۔
دوسری مرتبہ جب وہ ایک شو ’گڈ ڈے نیویارک‘ پیش کر رہی تھیں تو ان کے آس پاس بہت سارے پرتگالی مداح جمع تھے۔
تبھی ان میں سے ایک آدمی نے جو کہ سٹیج پر ناچ رہا تھا، اچانک کود کر ان کے گال پر بوسہ لے لیا۔
سبینا اپنا کام کرتی رہیں اور صرف اتنا بولیں ’آہ، یہ پھر سے وہی کروئیشیا والا قصہ دہرا رہے ہیں۔‘
میسی نے مس کیا فین

،تصویر کا ذریعہGetty
اتوار کو ریو میں ارجینٹینا کا میچ شروع ہونے کے پہلے ٹیم کے کپتان لائنل میسی میدان کی طرف بڑھ ہی رہے تھے کہ اچانک ٹیم کے ساتھ چل رہے بچوں میں سے ایک بچہ میسی کی طرف ہاتھ ملانے کے لیے بڑھا۔
بچہ ان کی طرف ہاتھ پھیلائے کھڑا رہا اور میسی اسے نظر انداز کر کے آگے بڑھ گئے۔ بچے کی شکل سے ظاہر تھا کہ وہ کس قدر مایوس ہوا۔
اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر ہنگامہ ہو گیا ہے۔
دو دن پہلے میسی نے اپنے چاہنے والوں کو آٹوگراف دینے سے انکار کر دیا تھا جو ان کی ٹیم کے پاس پہنچ گئے تھے۔
کئی ویب سائٹس پر اب ارجینٹینا کے اس کھلاڑی کو کھری کھوٹی سنائی جا رہی ہیں۔
ایکواڈور کی ماڈل رپورٹر

،تصویر کا ذریعہShobhan Saxena
اس ورلڈ کپ میں کچھ صحافی خبروں کی رپورٹنگ سے زیادہ خود ہی خبر بنے ہوئے ہیں۔
ایکواڈور کی صحافی مارسي كارئيو اتوار کے روز جب كورٹيبا کے فٹ بال سٹیڈیم کے سامنے اپنے ملک کے شائقین سے بات کرنے کے لیے پہنچیں تو ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔
كاريو پہلی بار ورلڈ کپ کی کوریج کر رہی ہیں اور وہ اپنے ملک میں ایک چینل پر سپورٹس کا پروگرام پیش کرتی ہے۔
وہ اپنی خوبصورتی، خاص طرز ادا اور فیشن کے لیے معروف ہیں اور ہر بار وہ اپنا پروگرام ایک نئے انداز کے لباس میں پیش کرتی ہیں۔
یوں تو ایکواڈور کی ٹیم سوئٹزرلینڈ سے ہار گئی لیکن ٹیم کے چاہنے والے کافی خوش نظر آئے، آخر ان کی ملاقات اپنے ملک کی ایک خوبصورت رپورٹر سے تو ہو ہی گئی۔
اب ایکواڈور کے ہزاروں پرستار اپنی ٹیم کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کی رپورٹر کے بھی پیچھے پیچھے گھوم رہے ہیں۔



