’کے ٹو سر کرنے کے لیے پہلی پاکستانی مہم‘

،تصویر کا ذریعہAPP
- مصنف, نوشین عباس
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرنے کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر آٹھ پاکستانی کوہ پیما اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کریں گے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ 8611 میٹر بلند پہاڑ کی چوٹی کو سر کرنے کے لیے صرف پاکستانی کوہ پیماؤں پر مشتمل ٹیم جا رہی ہے۔
قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع اس چوٹی کو پہلی مرتبہ 31 جولائی سنہ 1954 کو اٹلی کے کوہ پیماؤں نے سر کیا تھا۔
کوہ پیماؤں کی اس ٹیم میں شامل گلگت بلتستان کے آٹھ کوہ پیماؤں کی مدد کے لیے دو تجربہ کار اطالوی کوہ پیما ضرورت کے وقت بطور معاون دستیاب ہوں گے۔
’پاکستان کے ٹو مہم‘ کے منتظم احمد منیر کا کہنا ہے کہ پاکستان سے کوہ پیما عام طور پرگائیڈ یا پورٹر کی حیثیت میں کے ٹو پر جاتے تھے لیکن اب عالمی فنڈنگ کی وجہ سے پاکستانی کوہ پیمائوں کو بطور رکن اس مہم پر جانے کا موقع مل رہا ہے۔
ان کے مطابق مہم پر جانے والے امیدوار 40 سے زیادہ تھے جن میں سے صرف آٹھ منتخب ہوئے اور پھر انھیں تین برس تک تربیت دی گئی۔
پاکستانی کوہ پیماؤں کے لیڈر محمد تقی مہم کے لیے پوری طرح تیار ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک آسان مہم نہیں ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہap
انھوں نے کہا کہ ’ادھر ایوالانچ کا، پتھر لگنے کا اور ہائی ایلٹیچیوڈ کا مسئلہ ہے۔‘
مہم کے منتظم کے مطابق اسے یقینی بنانے کے لیے صرف اطالوی حکومت نے مالی مدد کی۔
احمد منیر کا کہنا ہے کہ اس مہم کو اطالوی تنظیم ’ایورسٹ کے ٹو سی این آر‘ نے فنڈز دیے ہیں تاکہ ان کوہ پیماؤں کو حوصلہ ملے اور یہ اپنا شوق پورا کر سکیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’کے ٹو پر چڑھنا بہت مشکل ہے۔ پہلے ان کلائمبرز کو تربیت دینی ہوتی ہے جس کے لیے بہت رقم درکار ہوتی ہے۔ اس مہم پر ایک ارب روپے کے قریب خرچ آ رہا ہے اور ہمارے ملک میں کوہ پیمائی بہت نظرانداز کیا گیا شعبہ ہے۔‘
1977 میں کے ٹو سر کرنے والے سب سے پہلے پاکستانی کوہ پیما اشرف امان کا بھی یہی کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کوہ پیمائی کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی۔
ان کا کہنا تھا کہ’ہمارا پہلے سے خواب تھا کہ پاکستانی حکومت مہم کا انتظام کرے لیکن ہم اپنے ہیروز کو تسلیم نہیں کرتے۔گھر کی مرغی دال برابر والی بات ہے۔‘



