پاکستان: مشتاق احمد سپن بولنگ کوچ مقرر

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اْردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق لیگ سپنر مشتاق احمد کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کا سپن بولنگ کوچ مقرر کر دیا ہے۔
43 سالہ مشتاق احمد کی تقرری اس عمل کا حصہ ہے جو پاکستان کرکٹ بورڈ وقار یونس کو ہیڈ کوچ بنائے جانے کے بعد نئے کوچنگ سٹاف کی تقرری کے سلسلے میں کر رہا ہے۔
مشتاق احمد کو سابق آف سپنر ثقلین مشتاق پر ترجیح دی گئی ہے جن کا نام کمیٹی نے شارٹ لسٹ کیا تھا۔
مشتاق احمد چھ سال سے انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے سپن بولنگ کوچ کے طور پر کام کر رہے تھے، تاہم نئے برطانوی کوچ پیٹر مورز نے نئے کوچنگ سٹاف کی تقرری کے ضمن میں بیٹنگ کوچ گراہم گوچ اور مشتاق احمد کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
185 ٹیسٹ اور 161 ون ڈے وکٹیں حاصل کرنے والے مشتاق احمد اس سے قبل بھی پاکستانی ٹیم کے سپن بولنگ کوچ کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔
وہ پہلی بار 2005 میں انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز کے موقع پر بولنگ کوچ بنائے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
2006 میں انھیں اسسٹنٹ کوچ مقرر کیا گیا تھا لیکن شہریار خان کی جگہ پی سی بی کے چیئرمین بننے والے ڈاکٹر نسیم اشرف نے انھیں فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا تھا، تاہم بعد میں وہ دوبارہ عالمی کپ کے موقع پر بولنگ کوچ بن گئے تھے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ مشتاق احمد پر میچ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے جسٹس قیوم نے تین لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ ساتھ یہ واضح طور پر کہا تھا کہ ان پر مستقبل میں گہری نظر رکھی جائےاور انھیں کسی قسم کی کوئی ذمہ داری نہ سونپی جائے۔
جسٹس قیوم نے 2006 میں مشتاق احمد کو اسسٹنٹ کوچ بنائے جانے پر سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں حیرت ہے کہ کرکٹ بورڈ نے ان کی سفارشات کے برخلاف قدم کیسے اٹھایا۔
لیگ سپنر مشتاق احمد نے جسٹس قیوم کمیشن کی رپورٹ کے حوالے سے اپنی تقرری پر کیے جانے والے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس قیوم کمیشن نے سفارشات کی تھیں، فیصلے نہیں دیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کی تقرری پہلی بار ہو رہی ہوتی تو یہ بات اچھالنے کی وجہ سمجھ میں بھی آتی۔
آئی سی سی نے مشتاق احمد کی انگلینڈ کی ٹیم کے سپن بولنگ کوچ کی حیثیت سے تقرری پر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو بھی متنبہ کیا تھا۔
آئی سی سی کے اس وقت کے چیف ایگزیکٹیو ہارون لورگاٹ نے کہا تھا کہ انھوں نے 2009 میں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو لکھا تھا جس میں انھیں یاد دلایا تھا کہ مشتاق احمد کا نام جسٹس قیوم رپورٹ میں شامل ہے۔ تاہم انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے مشتاق احمد پر اطمینان ظاہر کیا تھا۔



