اب چھ سلیکٹرز گیارہ کھلاڑی منتخب کرینگے !

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اْردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے گیارہ کھلاڑیوں کا انتخاب کرنے کے لیے چھ صاحبان کا انتخاب عمل میں آچکا ہے۔
ان میں سے تین کے لیے سلیکشن کی گتھی سلجھانے کا یہ پہلا موقع ہوگا باقی تین اس سے پہلے بھی ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر پسندیدہ یا ناپسندیدہ کھلاڑیوں کی قسمت کے فیصلے کرتے رہے ہیں۔
چیف سلیکٹر معین خان اگرچہ اس سے قبل بھی چیف سلیکٹر بنائے گئے تھے لیکن عدالتی حکم کے سبب وہ باضابطہ طور پر یہ ذمہ داری نہیں سنبھال سکے تھے۔ ان کے علاوہ وجاہت اللہ واسطی اور محمد اکرم کے لیے بھی سلیکشن کمیٹی میں آنے کا یہ پہلا اتفاق ہے۔
اعجاز احمد شعیب محمد اور سلیم یوسف ماضی میں بھی سلیکشن کے امور نمٹاچکے ہیں۔
یہ پاکستان کی سب سے بڑی سلیکشن کمیٹی بھی ہے۔ 2009 میں سات افراد سلیکشن کمیٹی میں شامل تھے لیکن ان میں سے دو کوآپٹڈ ممبرز تھے۔
اس سے قبل2003 میں عامر سہیل کی سربراہی میں قائم سلیکشن کمیٹی پانچ ارکان پر مشتمل تھی۔
کرکٹ کے حلقوں میں یہ سوال کیا جارہا ہے کہ آخر نجم سیٹھی صاحب کو اتنے زیادہ ارکان کے ساتھ سلیکشن کمیٹی کی تشکیل کی ضرورت کیوں پڑی ہے؟۔
اس سوال کو اس تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے کہ نجم سیٹھی ماضی میں کئی بار یہ کہہ چکے ہیں جو سابق ٹیسٹ کرکٹرز کرکٹ بورڈ میں شامل نہیں ہیں وہ میڈیا میں بیٹھ کر کرکٹ بورڈ پر تنقید کرتے رہتے ہیں اور یہ وہ سابق ٹیسٹ کرکٹرز ہیں جو کرکٹ بورڈ میں آنا چاہتے ہیں۔
تو کیا سلیکشن کمیٹی میں اتنی بڑی تعداد میں سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی شمولیت کا یہ مطلب لیا جائے کہ یہ ان نقاد سابق کرکٹرز کو خاموش کرنے کا ایک موثر طریقہ ہے۔
نئی سلیکشن کمیٹی ایڈ جسٹمنٹ کی ایک خوبصورت شکل بھی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شعیب محمد ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کے فیلڈنگ کوچ تھے لیکن کولمبو میں نجم سیٹھی نے یہ کہہ دیا تھا کہ وہ شعیب محمد کو مستقبل قریب میں نئی ذمہ داری سوپنے والے ہیں اور یہ ذمہ داری انہیں سلیکشن کمیٹی میں شامل کیے جانے کی صورت میں سونپ دی گئی ہے۔
محمد اکرم ان تمام افراد میں اس لحاظ سے سب سے زیادہ خوش قسمت ہیں کہ سابق چیرمین ذکا اشرف نے جہاں کئی دوسرے فیصلے کرکے دنیا کو حیران کیا تھا وہاں محمد اکرم کو دو سال کے لیے بولنگ کوچ مقرر کرنا بھی تھا۔
اپنے دور میں اوسط درجے کی کارکردگی دکھانے والے محمد اکرم بولنگ کوچ کی حیثیت سے بھی ٹیم میں کوئی خاص بہتری نہ لاسکے لیکن اب انہیں قومی کرکٹ اکیڈمی میں ہیڈ کوچ بنانے کے ساتھ ساتھ سلیکشن کمیٹی میں رکھ کر ایڈجسٹ کیا گیا ہے کیونکہ انہیں ہٹانے کی صورت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو دو سالہ معاہدے کے تحت کافی پیسہ انہیں ادا کرنا پڑجاتا۔
پاکستانی کرکٹ میں چیف سلیکٹر کا عہدہ ہمیشہ غیرمعمولی اہمیت کا حامل رہا ہے اس کی اہمیت ماضی میں حسیب احسن اقبال قاسم اور صلاح الدین احمد کے استعفے کی مثالوں سے بھی عیاں ہوجاتی ہے جنہوں نے سلیکشن کے معاملات میں مداخلت تسلیم نہیں کی اور کچھ ایسے نام بھی موجود ہیں جنہوں نے سر جھکاکر نوکری کرنے کو ترجیح دی۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈائریکٹر گیم ڈیویلپمنٹ کو بھی سلیکشن کمیٹی میں کوآپٹڈ ممبر کے طور پر شامل کر رکھا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سلیکشن کے معاملات سات افراد کے ذمے ہونگے۔
ماہرین اور مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ معین خان اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین کے سب سے زیادہ نزدیک ہیں یہی وجہ ہے کہ انہیں چیف سلیکٹر کے ساتھ ساتھ نہ صرف مینیجر بھی مقرر کیا گیا ہے بلکہ وہ اس کمیٹی میں بھی شامل ہیں جو نئے کوچز کا انتخاب کرے گی۔
سلیکشن کمیٹی کے پانچ میں سے چار ارکان معین خان کے ساتھ انٹرنیشنل کرکٹ کھیل چکے ہیں لہذا سلیکشن کے معاملے میں اختلافات کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن کوچ اور کپتان کے ساتھ دوروں پر چیف سلیکٹر کی انڈراسٹینڈنگ وقت آنے پر پتہ چلے گی کیونکہ دوروں پر معین خان چیف سلیکٹر کے ساتھ ساتھ منیجر بھی ہونگے۔



