راشد لطیف کا چیف سلیکٹر بننے سے انکار

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر راشد لطیف نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے ٹیم کے چیف سلیکٹر کا عہدہ سنبھالنے کی پیش کش کو رد کر دیا ہے۔
کرکٹ بورڈ کے ذرائع کے مطابق راشد لطیف نے کرکٹ بورڈ کو اس بارے میں آگاہ کر دیا ہے اور انھوں نے اس پیش کش کو رد کرنے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔
امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اطلاع دی ہے کہ راشد لطیف کا کہنا ہے کہ اس وقت جو تنازعات درپیش ہیں ان میں وہ سلکشن کمیٹی کی سربراہی سنبھالنا نہیں چاہتے۔
راشد لطیف پاکستان میں کرکٹ کے معاملات پر ہمیشہ سے ہی کھل کر رائے زنی کرتے رہے ہیں۔
راشد لطیف مقامی ذرائع ابلاغ پر ٹیم کی کارکردگی پر تنقید کرتے رہے ہیں اور محمد حفیظ کے ٹیم کی کپتانی سے مستعفی ہونے کے فیصلے سے بھی وہ متفق نہیں تھے۔
بنگلہ دیش میں کھیلے گئے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے مقابلوں میں پاکستان کی ٹیم ویسٹ انڈیز سے شکست کھانے کے بعد سیمی فائنل کے مرحلے تک بھی نہیں پہنچ سکی تھی۔
محمد حفیظ کی کارکردگی بھی اس ٹورنامنٹ میں مایوس کن رہی اور وہ پورے ٹورنامنٹ میں صرف 55 رن بنا پائے اور صرف ایک وکٹ حاصل کی۔
کرکٹ بورڈ کے ذرائع کے مطابق بورڈ ٹیم کا نیا کوچ مقرر کرنے کے بارے میں سابق فاسٹ باولر وقار یونس سے رابطے میں ہے۔ وقار یونس حال ہی میں لاہور آئے تھے اور ان کی بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔
دریں اثنا چیئرمن پی سی بی نجم سیٹھی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ پاکستان ٹیم اس سال جولائی اگست میں سری لنکا کا دورہ کرے گی۔ اس کے بعد اکتوبر میں پاکستان کی ٹیم دبئی میں آسٹریلیا کے خلاف ایک ٹی ٹوئنٹی، تین ایک روزہ میچوں اور پانچ ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کھیلے گی۔



