ورلڈ ٹی ٹوئنٹی فائنل میں سری لنکا کی شاندار فتح

،تصویر کا ذریعہAFP
سری لنکا نے ٹی ٹوئنٹی کے عالمی کرکٹ مقابلوں کے فائنل میں بھارت کوچھ وکٹوں سے شکست دے کر پہلی مرتبہ یہ ٹورنامنٹ جیت لیا ہے۔
سری لنکا کو یہ میچ جیتنے کے لیے 131 رن درکار تھے جو اس نے باآسانی چار وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیے۔
سری لنکا کی فتح میں اہم کردار اپنے کریئر کا آخری ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے والے تجربہ کار کمارا سنگاکارا نے نصف سنچری بنا کر ادا کیا۔ انھیں فائنل میچ کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا۔
بھارتی بلے باز ویراٹ کوہلی کو مین آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔ بھارت نے اس ٹورنامنٹ میں چھ میچ کھیلے اور انھوں نے ان میں سے چار میں نصف سنچریاں سکور کئیں۔ فائنل میں بھی انھوں نے سب سے زیادہ 77 رنز بنائے اور آخری گیند پر رن آؤٹ ہوئے۔
بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ کے شیرِ بنگلہ سٹیڈیم میں کھیلے جانے والا میچ بارش کی وجہ سے تاخیر سے شروع ہوا۔
اس میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی تو اس نے ویراٹ کوہلی ایک اور شاندار اننگز کی بدولت مقررہ 20 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 130 رنز بنائے۔
<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/88779" platform="highweb"/></link>
کوہلی نےٹورنامنٹ میں ایک اور نصف سنچری بنائی۔ وہ 58 گیندوں پر پانچ چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے 77 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
انھوں نے پہلے روہت شرما اور پھر یوراج سنگھ کے ساتھ مل کر دو اہم شراکتیں قائم کیں۔
کوہلی کے علاوہ روہت شرما نے 29 رنز کی اہم اننگز کھیلی تاہم یوراج سنگھ امیدوں پر پورا نہ اتر سکے اور 21 گیندوں پر 11 رنز ہی بنا سکے۔
ایک موقع پر لگتا تھا کہ بھارت ایک بڑا سکور بنانے میں کامیاب رہے گا لیکن آخری تین اوورز میں بھارتی بلے باز صرف 16 رنز ہی بنا پائے۔
سری لنکا کی جانب سے میتھیوز، ہیراتھ اور کلاسیکرا نے ایک ایک وکٹ لی۔
جواب میں سری لنکا کو ابتدا میں ہی کوشل پریرا کی وکٹ کی شکل میں نقصان اٹھانا پڑا اور اس کے بعد بھی وقفے وقفے سے اس کی وکٹیں گرتی رہیں۔
ایک موقع پر سری لنکا کے چار کھلاڑی 78 رنز کے مجموعی سکور پر پویلین لوٹ چکے تھے اور بھارت کی میچ پر گرفت مضبوط تھی۔
تاہم اس موقع پر کمارا سنگاکارا نے پرسنّا کے ساتھ مل کر پانچویں وکٹ کے لیے 56 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کو 18ویں اوور میں ہی فتح دلوا دی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس دوران سنگا کارا نے اپنی نصف سنچری بھی صرف 31 گیندوں پر مکمل کی۔
اس میچ کے لیے سری لنکن ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی اور سیکوگے پرسنّا کی جگہ تشارا پریرا کو ٹیم میں جگہ ملی جبکہ بھارت نے سیمی فائنل جیتنے والی ٹیم ہی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا۔
2007 میں یہ ٹورنامنٹ جیتنے والی بھارتی ٹیم دوسری مرتبہ ان عالمی مقابلوں کے فائنل میں پہنچی ہے۔ بھارت اس ٹورنامنٹ کی واحد ٹیم ہے جو اب تک ایک میچ بھی نہیں ہاری۔
سیمی فائنل میں دفاعی چیمپیئن ویسٹ انڈیز کو ہرانے والی سری لنکن ٹیم کا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا فائنل کھیلنے کا یہ تیسرا موقع ہے لیکن آج تک وہ فائنل میں فتح کا مزہ نہیں چکھ سکی ہے۔
سری لنکا کو 2009 کے فائنل میں پاکستان نے ہرایا تھا جبکہ دو سال قبل اپنے ہی ہوم گراؤنڈ پر اسے ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یہ فائنل میچ سری لنکا کے دو تجربہ کار بلے بازوں مہیلا جے وردھنے اور کمارسنگاکارا کا آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ ہے۔ یہ دونوں بلے باز اس ٹورنامنٹ کے بعد اس طرز کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے ہیں۔



