ڈھاکہ میں بارش، ورلڈ ٹی 20 فائنل کے آغاز میں تاخیر

ورلڈ ٹی 20 ٹورنامنٹ کا ایک سیمی فائنل بھی بارش سے متاثر ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنورلڈ ٹی 20 ٹورنامنٹ کا ایک سیمی فائنل بھی بارش سے متاثر ہوا تھا
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈھاکہ

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی تمام تر دلچسپی اتوار کو ہونے والے فیصلہ کن مقابلے میں سمٹ آئی ہے لیکن ڈھاکہ میں جاری بارش کی وجہ سے میچ اب تاخیر سے شروع ہوگا۔

میچ کے آغاز کا مقررہ وقت شام سات بجے تھا تاہم اب یہ سات بج کر چالیس منٹ پر شروع ہوگا۔ اس تاخیر کے باوجود اوورز کی تعداد کم نہیں کی گئی ہے۔

فائنل کے دن بارش کے خدشے کے پیشِ نظر فیصلہ کن میچ کے لیے ایک ریزرو دن بھی رکھا گیا تھا یعنی اگر اتوار کو میچ ممکن نہ ہوا تو فائنل پیر کو کھیلا جا سکے گا۔

اس فائنل میچ میں جس میں ایک طرف ایک ایسی ٹیم ہے جو پہلا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹائٹل جیتنے کے بعد سات سال انتظار کرکے اب دوبارہ فائنل میں آئی ہے اور دوسری جانب وہ ٹیم ہے جس کے دل میں دو بار فائنل ہارنے کی کسک موجود ہے۔

بھارت اس ٹورنامنٹ کی واحد ٹیم ہے جو ایک میچ بھی نہیں ہاری ۔اس نے پاکستان کو پہلے میچ میں ہرا کر اپنے ذہن کو پہلے بڑے دباؤ سے آزاد کرلیا جس کے بعد دھونی اپنے کھلاڑیوں کو جنگجوؤں کی طرح لڑاتے ہوئے فائنل تک لے آئے ہیں۔

بھارتی ٹیم اس وقت ورلڈ چیمپئن اور چیمپئنز ٹرافی کی فاتح ہے لہذا ہر بھارتی کھلاڑی تیسرے بڑے ٹائٹل کو حاصل کرنے کے لیے بےتاب ہے۔

بھارت کے لیے یہ مقابلہ یکطرفہ نہیں ہوگا کیونکہ حریف ٹیم کی لنکا ڈھانا سری لنکا کی پرانی عادت ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبھارت کے لیے یہ مقابلہ یکطرفہ نہیں ہوگا کیونکہ حریف ٹیم کی لنکا ڈھانا سری لنکا کی پرانی عادت ہے

کپتان مہندر سنگھ دھونی ایک ایسے موقع پر ٹیم لے کر ڈھاکہ آئے جب آئی پی ایل سکینڈل نے بھارتی کرکٹ کو بری طرح متاثر کیا لیکن دھونی نے سکون اور اعتماد کے ساتھ پورے ٹورنامنٹ میں صرف اور صرف کرکٹ پر توجہ مرکوز رکھی۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ بہت سی چیزیں ان کے کنٹرول سے باہر ہیں جن کے بارے میں وہ نہیں سوچتے لیکن جو چیز ان کے کنٹرول میں ہے اس سمت وہ بڑھ سکتے ہیں۔

مہندر سنگھ دھونی کا کہنا ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں ان کے سپنروں نے بہت ہی عمدہ بولنگ کی ہے۔

بھارتی بیٹنگ لائن کے ’پاور ہاؤس‘ ویراٹ کوہلی کا کہنا ہے کہ سری لنکا ایک زبردست ٹیم ہے لہذا بھارتی ٹیم کو اپنی پوری توانائی کے ساتھ فائنل کھیلنا ہوگا۔

وہ یہ ٹورنامنٹ جیتنے کی دیرینہ خواہش رکھتے ہیں کیونکہ جب 2007 میں بھارت نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتا تھا تو وہ اس ٹیم کا حصہ نہیں تھے لیکن اب اس جیت کو محسوس کرنا چاہتے ہیں۔

بھارتی ٹیم کو پرسکون ہو کر کھیل کی تمام بنیادی باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ میچ کھیلنا ہوگا اور انھیں ضرورت سے زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔

سری لنکن بولنگ قائم مقام کپتان لستھ مالنگا، کولاسیکرا اور رنگانا ہیرتھ پر انحصار کرے گی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنسری لنکن بولنگ قائم مقام کپتان لستھ مالنگا، کولاسیکرا اور رنگانا ہیرتھ پر انحصار کرے گی

بھارت کے لیے یہ مقابلہ یکطرفہ نہیں ہوگا کیونکہ حریف ٹیم کی لنکا ڈھانا سری لنکا کی پرانی عادت ہے۔

سری لنکا کی بیٹنگ لائن میں شامل مہیلا جے وردھنے، تلکارتنے دلشن، کوشل پریرا اور کمارسنگاکارا کی صلاحیت سے کسی کو انکار نہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سری لنکن بیٹسمین سپنروں کو اچھا کھیلتے ہیں اور اگر انہوں نے فائنل میں بھی مشرا، ایشون اور جدیجا کو قابو کرلیا تو مہندر سنگھ دھونی کے لیے یہ بات پریشان کن ہوگی۔

سری لنکن بولنگ قائم مقام کپتان لستھ مالنگا، کولاسیکرا اور رنگانا ہیرتھ پر انحصار کرے گی۔

سری لنکا کی ٹیم کے اندرونی مسائل اپنی جگہ موجود ہیں اور کپتان چندی مل کو ٹیم چھوڑنی پڑی ہے لیکن میدان میں یہ ٹیم بہت کچھ کردکھانے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔

سری لنکا نے دو ہزار نو کا فائنل کھیلا تھا جس میں پاکستان نے اسے شکست دی تھی جبکہ دو سال قبل اپنے ہی ہوم گراؤنڈ پر ایک اور جیت اس کے قریب سے گزرگئی اور اس مرتبہ یہ زخم ویسٹ انڈیز نے دیا تھا۔