بارسلونا کلب پر پابندی ’ناانصافی‘ ہے: ہوسیپ ماریہ

فیفا کی تحقیقات کے مطابق بارسلونا کلب نے سنہ 2009 سے سنہ 2013 تک 18 سال سے کم عمر کے کئی کھلاڑیوں کو رجسٹرڈ کیا اور انھوں نے میچ بھی کھیلے
،تصویر کا کیپشنفیفا کی تحقیقات کے مطابق بارسلونا کلب نے سنہ 2009 سے سنہ 2013 تک 18 سال سے کم عمر کے کئی کھلاڑیوں کو رجسٹرڈ کیا اور انھوں نے میچ بھی کھیلے

فٹبال کلب بارسلونا کے صدر ہوسیپ ماریہ بارتومیو نے فٹبال کے نگراں ادارے فیفاکی جانب سے اس پر 14 ماہ تک کھلاڑیوں کے تبادلے پر پابندی کے فیصلے کو ’ناانصافی‘ قرار دیا ہے۔

سپین کے فٹبال کلب بارسلونا کلب کے صدر کا کہنا ہے کہ وہ اس پابندی کے خلاف ایپل دائر کریں گے۔

ہوسیپ ماریہ بارتومیو نے کہا ’ہم اس پابندی کے خلاف اپیل دائر کریں گے کیونکہ ہمارے خیال میں یہ پابندی ’ناانصافی‘ پر مبنی ہے۔‘

ہوسیپ ماریہ بارتومیو نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو رجسٹر کرتے ہوئے ہسپانوی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کا کلب نوجوان کھلاڑیوں کو رجسٹر کرنے کی اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرے گا۔

ہوسیپ ماریہ بارتومیو نے کہا کہ فیفا کی بارسلونا کلب کے خلاف کی جانے والی تحقیقات ایک گمنام کھلاڑی کی جانب سے کی گئی گمنام شکایت پر مبنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی گمنام شخص بارسلونا کلب کی شہرت کو نقصان پہچانا چاہتا ہے۔

خیال رہے کہ فیفا کی تحقیقات کے مطابق بارسلونا کلب نے سنہ 2009 سے سنہ 2013 تک 18 سال سے کم عمر کے کئی کھلاڑیوں کو رجسٹرڈ کیا اور انھوں نے میچ بھی کھیلے۔

فٹبال کے عالمی ادارے کے مطابق بارسلونا کلب اور سپین کی فٹبال فیڈریشن نے 10 کھلاڑیوں کے معاملے میں قواعد کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔

فیفا کے قوانین کے مطابق صرف 18 سال سے زیادہ عمر کے کھلاڑیوں کے بین الاقوامی تبادلے کیے جا سکتے ہیں۔