آگے جانا ہے یا واپس گھر، فیصلہ آج ہوگا

پاکستانی ٹیم سنہ 2007 سے لے کر اب تک ہر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کم ازکم سیمی فائنل تک ضرور پہنچی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی ٹیم سنہ 2007 سے لے کر اب تک ہر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کم ازکم سیمی فائنل تک ضرور پہنچی ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈھاکہ

پاکستانی کرکٹ ٹیم آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی میں آج ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک ایسا میچ کھیلنے والی ہے جو جیت کی صورت میں اسے سیمی فائنل میں لے جائے گا لیکن شکست کی صورت میں وہ گھر کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔

پاکستانی ٹیم سنہ 2007 سے لے کر اب تک ہر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کم ازکم سیمی فائنل تک ضرور پہنچی ہے جن میں سے ایک میں اس نے عالمی اعزاز جیتا اور ایک بار اسے فائنل میں شکست ہوئی۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں یہ دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلا جانے والا پہلا میچ بھی ہے۔

ویسٹ انڈیز اور پاکستان دونوں کے تین تین میچوں میں چار چار پوائنٹس ہیں۔ دونوں ٹیموں نے بھارت سے اپنے پہلے میچز ہارنے کے بعد آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کو شکست دی اور اب وہ فیصلہ کن مقابلہ جیت کر سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے تمام تر توانائیاں صرف کرنے کے لیے تیار بیٹھی ہیں۔

بھارتی ٹیم چاروں میچ جیت کر آٹھ پوائنٹس کے ساتھ گروپ ٹو میں سرِ فہرست ہے اور وہ جمعہ کو سیمی فائنل میں گروپ ون کی نمبر دو ٹیم سے مقابلہ کرے گی جب کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے میچ کی فاتح ٹیم جمعرات کو سیمی فائنل میں گروپ ون کی نمبر ایک ٹیم کا سامنا کرے گی۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے جا چکے ہیں جن میں پاکستان نے دو جب کہ ایک میچ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم کامیاب رہی ہے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا میچ سنہ 2011 میں سینٹ لوشیا میں کھیلا گیا تھا جس میں ویسٹ انڈیز نے سات رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔

گزشتہ سال پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے دورے میں کھیلے گئے دونوں میچ جیتے تھے۔ پاکستان نے پہلا میچ ذوالفقار بابر کی تین وکٹوں اور آخری گیند پر لگائے گئے چھکے کی بدولت دو وکٹوں سے جیتا تھا جب کہ دوسرے میچ میں پاکستان نے 11 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ذوالفقار بابر اس میچ میں بھی دو وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کے نتیجے میں مین آف دی سیریز بنے تھے۔