پاکستانی ٹیم مضبوط مگر ناقابل اعتبار

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں حصہ لینے والی پاکستانی ٹیم کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ یہ ایک مضبوط ٹیم ہے جو کسی بھی وقت بڑی سے بڑی ٹیم کو ہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اس کی بے اعتباری بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جب اس کا دن نہ ہو تو کسی بھی کمزور حریف سے ہار سکتی ہے۔
پاکستانی ٹیم کا سب سے مضبوط شعبہ اس کی بولنگ ہے۔ آئی سی سی کی عالمی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ کے ابتدائی دس بولرز میں پاکستان کے دو بولرز سعید اجمل دوسرے اور محمد حفیظ پانچویں نمبر پر موجود ہیں لیکن اگر ہم ٹی ٹوئنٹی کے کامیاب بولرز کا جائزہ لیں تو پاکستانی بولرز زیادہ نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
شاہد آفریدی کی طوفانی بیٹنگ کا کردار بھی بڑی اہمیت کا حامل ہوگا۔ حالیہ ایشیا کپ میں بھارت اور بنگلہ دیش کے خلاف دو شاندار اننگز کے بعد ان سے شائقین کی توقعات پھر بڑھ گئی ہیں۔
شاہد آفریدی کو سب سے زیادہ 70 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
پاکستانی ٹیم کی قیادت محمد حفیظ کررہے ہیں بحیثیت کپتان یہ ان کا دوسرا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ہے۔وہ اسوقت آئی سی سی کی آل راؤنڈرز کی عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہیں۔
پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ لائن میں محمد حفیظ، احمد شہزاد، شرجیل خان، صہیب مقصود، عمر اکمل اور شعیب ملک شامل ہیں۔ تاہم اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل کو شرجیل خان پر ترجیح دیتے ہوئے اننگز شروع کرائی جائے گی۔
کامران اکمل کا سلیکشن کرکٹ کے حلقوں میں اس لیے بھی موضوع بحث بنا رہا ہے کیونکہ اس سیزن کے دو ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹس میں ان کی بیٹنگ انتہائی مایوس کن رہی تھی اور وہ ایک ٹورنامنٹ کے تین میچوں میں 58 اور دوسرے ٹورنامنٹ کے تین میچوں میں صرف22 رنز بناسکے تھے۔
اوپنر احمد شہزاد اور عمراکمل ایسے بیٹسمین ہیں جو کسی بھی بولنگ اٹیک کو تتربتر کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
احمد شہزاد گزشتہ سال ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ347 رنز بنانے والے بیٹسمین تھے جن میں زمبابوے کے خلاف ہرارے میں 98 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز بھی شامل تھی جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کسی بھی پاکستانی کا بہترین انفرادی سکور بھی ہے۔
عمراکمل ٹی ٹوئنٹی میں محمد حفیظ کے1250 رنز کے بعد سب سے زیادہ 1093 رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں لیکن غیرمستقل مزاجی کی وجہ سے وہ ابھی تک اپنے ٹیلنٹ سے مکمل طور پر انصاف نہیں کرسکے ہیں۔
پاکستان نے آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے چار ٹورنامنٹس میں سب سے زیادہ 26 میچ کھیلے ہیں جن میں سے اس نے16 جیتے ہیں جو جیتے گئے میچوں کی سب سے بڑی تعداد بھی ہے۔سری لنکا نے بھی اتنے ہی میچ جیتے ہیں لیکن اس نے پاکستان سے ایک میچ کم کھیلا ہے۔



