کرکٹ آسٹریلیا:’شین واٹسن کو شامل کریں یا نہ کریں‘

،تصویر کا ذریعہPress Association
آسٹریلین کرکٹ بورڈ ال راؤنڈر شین واٹسن کی صحت یابی کے بعد انھیں جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے لیے ٹیم میں جگہ دینے پر غیریقینی صورتِ حال سے دوچار ہے۔
شین واٹسن آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے موقع پر زخمی ہونے کی وجہ سے ٹیم سے باہر رہے لیکن اب وہ صحت یاب ہو کر کھیل میں واپس آ گئے ہیں۔
آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان دوسرا ٹیسٹ میچ جمعرات سے پورٹ الزبتھ میں کھیلا جا رہا ہے۔
آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ کو پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ میں 281 رنز سے شکست دی تھی جس میں شان مارش دو سالوں میں اپنے پہلے ٹیسٹ میں سنچری سکور کی جبکہ اپنا پہلا میچ کھیلنے والے ایلیکس ڈولن نے گیارہ رنز بنائے۔
آسٹریلیا کی ٹیم کی پیر کو پورٹ الزبتھ روانہ ہونے کے موقع پر ٹیم کے کوچ ڈیرن لیمین نے کہا کہ’ہمیں آئندہ چند دنوں میں شین کو دیکھنا ہے۔ ہمیں اس وقت اندازہ ہوگا جب ہم وہاں ہوں گے، ٹریننگ کریں گے اور دیکھیں کہ کیا ہوگا۔‘
انھوں نے کہا کہ’ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کھیل کا ماحول کیسا ہے اور کیا ہمیں اضافی باولر رکھنے کی ضرورت ہوگی یا نہیں۔‘
لیمین کا کہنا تھا کہ’آپ چاہیں گے کہ وہ باؤلنگ کریں۔ پہلے ہمیں اسے فٹ کرنا ہے اور آگے دیکھنا ہے کہ کیا ہوگا۔ وہ ٹیم شمولیت کے قریب ہے۔ وہ اتوار کو دوڑ رہا تھا۔‘
جنوبی افریقہ کو پہلے ٹیسٹ میں سنیچر کو شکست دینے کے بعد آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک نے کہا کہ’خوش قسمتی سے میں سلیکٹر نہیں ہوں۔لیکن یہ اچھا مسئلہ درپیش ہے۔ ہمیں سلیکٹرز کے فیصلے تک انتظار کرنا ہوگا۔‘
پہلے ٹیسٹ میں مچل جانسن نے دوسری اننگز میں پانچ اور مجموعی طور پر 12 وکٹیں حاصل کی تھیں۔اس عمدہ بولنگ پر انھیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
پورٹ الزبتھ میں دوسرے ٹیسٹ کے موقع پر باونسنگ پیچ ہونے کی وجہ سے جنوبی افریقی بلے بازوں کو مچل جانسن سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔اب بھی خیال کیا جاتا ہے کہ جنوبی افریقہ کے لیے مچل جانسن ہی بڑا خطرے ہونگے۔
ایک طرف آسٹریلیا شین واٹسن کو ٹیم میں شامل کرنے پر تذبذب کا شکار ہے تو دوسری طرف جنوبی افریقہ کے ساتویں نمبر پر بلے باز کھلانے کے معاملے پر غیر یقینی کیفیت کا سامنا ہے۔
ریان میکلارن جس نے پہلے ٹیسٹ میں ساتویں پوزیشن پر بیٹنگ کی تھی جانسن کے بال پر سر پر معملی چوٹ آنے کے وجہ سے اس پوزیشن کے لیے خارج از امکان قرار دیا گیا ہے۔



