بگ تھری: سیٹھی کی سابق سربراہوں سے مشاورت

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین نجم سیٹھی نے بگ تھری کے معاملے میں متفقہ موقف اختیار کرنے کی کوشش کے طور پر بورڈ کے سابق چیئرمینوں سے مشاورت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور اس ضمن میں انہوں نے پیر کے روز لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) توقیر ضیا سے ملاقات کی ہے۔
نجم سیٹھی نے توقیرضیا سے ملاقات کے بعد بگ تھری کے معاملے پر صحافیوں کے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ چونکہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے اور انہیں ایک ماہ میں اس پر مشاورت مکمل کر کے متفقہ حکمت عملی کے ساتھ آئی سی سی کے پاس جانا ہے لہٰذا وہ اس پر کوئی بات نہیں کریں گے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہیں توقیرضیا کی حمایت حاصل ہے، ان کی ہر جگہ دوستیاں ہیں، عزت ہے، لہٰذا وہ چاہیں گے کہ ان کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جائے۔
لیفٹننٹ جنرل توقیرضیا نے اس موقعے پر کہا کہ آج کی بریفنگ میں انہیں حقیقت معلوم ہوئی ہے۔ وہ نہیں چاہیں گے کہ کسی ایسے نتیجے پر پہنچیں جو پاکستانی کرکٹ کے خلاف ہو۔
توقیرضیا نے کہا کہ ’ کوئی بھی پاکستان کو انٹرنیشنل کرکٹ سے باہر نہیں کرسکتا۔ ہم ایسا موقف اختیار کریں گے جو ہمارے مفاد میں ہو لیکن ہم کسی کی غلامی نہیں چاہیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی پیچیدہ معاملہ ہے جس پر بہت سوچ بچار کے بعد حتمی فیصلے تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔
توقیرضیا نے کہا کہ کرکٹ بورڈ میں عدالتی سلسلے ختم ہونے چاہییں تاکہ اس ادارے کی کارکردگی میں تسلسل آئے اور جو بھی چیئرمین ہو اسے دو تین سال ملنے چاہیں تاکہ وہ اپنے طویل المدتی پروگرام پر عمل کر سکے۔
انہوں نے ازراہ تفنن کہا: ’پتہ نہیں سیٹھی صاحب نے کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بننا کیوں قبول کیا۔ وہ چیئرمین رہ چکے ہیں، لیکن دوبارہ یہ عہدہ قبول نہ کریں۔‘
توقیرضیا نے کہا کہ نجم سیٹھی کو صحیح مشورے دینے والوں کی ضرورت ہے کیونکہ مشیر ہی معاملات خراب کرتے ہیں۔



