سکیورٹی کی ضمانت دیں ورنہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی منتقل کریں: نجم سیٹھی

’ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس چار جنوری کو سری لنکا میں ہو رہا ہے جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ یہ معاملہ اٹھائے گا‘
،تصویر کا کیپشن’ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس چار جنوری کو سری لنکا میں ہو رہا ہے جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ یہ معاملہ اٹھائے گا‘
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی صورتحال کے پیشِ نظر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی کی ضمانت ملنی چاہیے کیونکہ وہاں پاکستان کے بارے میں اس وقت سخت موقف پایا جارہا ہے۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ ابھی دونوں ایونٹس کے انعقاد میں وقت ہے اور امید ہے کہ بنگلہ دیش کے حالات بہتر ہوجائیں گے اورسکیورٹی کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو یقین دہانی مل جائے گی۔

انھوں نے کہا: ’لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ظاہر ہے کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور اگر کسی وجہ سے پاکستانی ٹیم وہاں شرکت نہیں کر پاتی تو پھر پاکستان کرکٹ بورڈ یہی کہے گا کہ یہ دونوں مقابلے بنگلہ دیش سے کسی دوسرے ملک منتقل کردیے جائیں۔‘

واضح رہے کہ جنوری میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم نے بنگلہ دیش کا دورہ کرنا ہے جبکہ بنگلہ دیش فروری میں ایشیا کپ اور مارچ میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی میزبانی کرنے والا ہے۔

بنگلہ دیش کی خراب صورتِ حال کے پیش نظر ویسٹ انڈیز کی انڈر 19 ٹیم قبل از وقت دورہ ختم کر کے واپس جا چکی ہے۔

نجم سیٹھی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس چار جنوری کو سری لنکا میں ہو رہا ہے جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ یہ معاملہ اٹھائے گا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں بنگلہ دیشی حکومت، عوام اور میڈیا ایک خاص موقف رکھتے ہیں، لہٰذا پاکستانی کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی کی ضمانت دی جائے اور یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا خیال رکھا جائے گا۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو بھی اس بارے میں خط لکھا تھا اور آئی سی سی نے بھی یہی کہا ہے کہ وہ صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس پورے معاملے میں دفترخارجہ کو بھی باخبر رکھا ہوا ہے اور آئی سی سی سے ہونے والی خط و کتابت سے دفترِخارجہ کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ اپنی ہدایت دے۔

واضح رہے کہ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کے دوران جنگی جرائم میں ملوث پائے جانے والے 65 سالہ عبدالقادر ملا کو پھانسی دی گئی تھی۔

پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ زیریں نے پیر کو ان کی پھانسی کے خلاف کثرتِ رائے سے قرارداد منظور کی تھی۔

بنگلہ دیش نے جماعتِ اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کی پھانسی کے خلاف پاکستان کی قومی اسمبلی میں قرارداد کی منظوری پر پاکستانی ہائی کمشنر سے وضاحت طلب کی تھی۔

بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ عبدالقادر ملا پر مقدمہ اور انھیں دی گئی سزا ملک کا اندرونی معاملہ ہے اور اس سلسلے میں پاکستانی اسمبلی کی قرارداد غیر ضروری تھی۔

اس کے بعد بنگلہ دیش میں پاکستان کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے۔