’آئی سی سی کی اصلاحات سے تمام کو فائدہ ہو گا‘

آئی سی سی کے 28 اور 29 جنوری کے اجلاس میں چار ممالک پاکستان، جنوبی افریقہ، سری لنکا اور بنگلہ دیش نے آئی سی سی کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے متنازع مسودے کی سخت مخالفت کی تھی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنآئی سی سی کے 28 اور 29 جنوری کے اجلاس میں چار ممالک پاکستان، جنوبی افریقہ، سری لنکا اور بنگلہ دیش نے آئی سی سی کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے متنازع مسودے کی سخت مخالفت کی تھی

انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین جائلز کلارک نے کہا ہے کہ آئی سی سی کی مجوزہ اصلاحات سے کرکٹ کھیلنے والے ممالک کو مزید مالیاتی تحفظ ملے گا۔

آئی سی کے ارکان سنیچر کو ’بگ تھری‘ میں شامل تین ممالک انگلینڈ، آسٹریلیا اور بھارت کو مزید اختیارات دینے کے حوالے سے فیصلہ کریں گے۔

جائلز کلارک نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ اچھے انداز میں چل رہی ہے تو وہ غلط ہے۔

انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ مجوزہ تبدیلیاں ضروری ہیں اور اگر انگلینڈ، آسٹریلیا اور بھارت کو زیادہ اختیارات دینے کے علاوہ انھیں آئی سی سی کی جانب سے براڈ کاسٹنگ ڈیلز کا اختیار دیا جائے تو اس سے کرکٹ کھیلنے والے تمام ممالک کو مالی فائدہ ہوگا۔

جائلز کلارک نے کہا اس مجوزہ تجویز سے کرکٹ کھیلنے والے تمام ممالک کو مالی فائدہ حاصل ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مجوزہ تجاویز سے آئی سی سی کے کسی بھی رکن ملک کو کم مالی فائدہ نہیں ہوگا اور اگر ہماری پیش گوئی ٹھیک رہی تو زیادہ تر رکن ممالک بہت زیادہ مالی فوائد حاصل کریں گے اور یہ کرکٹ کے بُری بات کیسے ہو سکتی ہے؟

انگلینڈ، آسٹریلیا اور بھارت نے گذشتہ ہفتے آئی سی سی کے بورڈ اجلاس میں ایک ایسا مسودہ پیش کیا تھا جس میں بہت سی متنازع تجاویز شامل تھیں۔

خیال رہے کہ بی سی سی آئی کے صدر سری نواسن نے گزشتہ ہفتے انگلینڈ اور آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے ساتھ مل کر ایک ایسا مسودہ آئی سی سی میں پیش کیا تھا جس پر عملدرآمد ہونے کی صورت میں ان تینوں ممالک کو آئی سی سی کے انتظامی اور مالی معاملات میں غلبہ حاصل ہوجائے گا۔

اس مسودے میں کہا گیا تھا کہ آئی سی سی کے ایگزیکٹیو اختیارات اور مالی کنٹرول ای سی بی، کرکٹ آسٹریلیا اور بی سی سی آئی کے ہاتھ میں رہے گا، جو علی الترتیب انگلستان، آسٹریلیا اور بھارت کے کرکٹ بورڈ ہیں۔

اس کے علاوہ یہ تینوں کرکٹ بورڈز آئی سی سی کی ایگزیکیٹو کمیٹی کے مستقل رکن ہوں گے جبکہ چوتھا رکن دیگر سات ممالک میں سے کوئی ایک نامزد ہوگا اور عالمی کرکٹ کی آمدنی کا بڑا حصہ انھی تین کرکٹ بورڈز کو ملے گا جبکہ ٹیسٹ میچوں میں ترقی اور تنزلی کے طریقۂ کار میں بھی یہ تینوں کرکٹ بورڈز تنزلی سے مبّرا ہوں گے۔

آئی سی سی کے 28 اور 29 جنوری کے اجلاس میں چار ممالک پاکستان، جنوبی افریقہ، سری لنکا اور بنگلہ دیش نے آئی سی سی کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے متنازع مسودے کی سخت مخالفت کی تھی جس کے باعث اس مسودے کی کچھ شقوں میں ردو بدل بھی کیا گیا۔

دوسری جانب پاکستان اور جنوبی افریقہ سنیچر کو سنگاپور میں ہونے والے اس اجلاس میں پیش کی جانے والی ممکنہ تبدیلیوں کی پہلے ہی مخالفت کر چکے ہیں۔

اس اجلاس میں پیش کی جانے والی تجاویز پر غور کرنے کے ساتھ ممکنہ ووٹنگ بھی ہو گی۔