کرکٹ کے ’ٹرائیکا‘ پر پاکستان کی تشویش

آئی سی سی کے اجلاس میں اس بارے تفصیل سے بات ہو گی: چیئرمین پی سی بی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآئی سی سی کے اجلاس میں اس بارے تفصیل سے بات ہو گی: چیئرمین پی سی بی
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کے مجوزہ’ ورکنگ گروپ پوزیشن پیپر‘ پر تشویش ظاہر کردی ہے اور کہا ہے کہ دوسرے کئی کرکٹ بورڈز کو بھی اس مسودے پر پریشانی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذ کا اشرف نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آئی سی سی کو تمام ملکوں میں یکساں طور پر کرکٹ کو پھلنے پھولنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔کئی ملکوں میں کرکٹ بہت کم ہوتی ہے اور وہاں زیادہ وسائل بھی نہیں ہیں لہذا ایسے ممالک نئے مجوزہ منصوبے سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

ذکا اشرف نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے بورڈز کو بھی اس مسودے یا منصوبے سے پریشانی ہے اور یقینی طور پر آئی سی سی کے اجلاس میں اس بارے میں تفصیل سے بات ہوگی اور توقع ہے کہ بہتر حل سامنے آجائے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ عارف علی خان عباسی نے بھارت آسٹریلیا اور انگلینڈ کے کرکٹ بورڈز کی جانب سے مالی اور انتظامی معاملات میں زیادہ حصہ رکھے جانے کی تجویز کو آئی سی سی کو ہائی جیک کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

عارف علی خان عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تو کھلم کھلا بلیک میلنگ ہے۔ ماضی میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کی اجارہ داری رہی لیکن اب بھارت بھی اس کا حصہ دار بنا ہوا ہے لیکن کوئی یہ پوچھنے کے لیے تیار نہیں کہ کرپشن کے کئی سکینڈلز میں مبینہ طور پر ملوث بی سی سی آئی کو انگلینڈ اور آسٹریلیا کس طرح ملا کر چل رہے ہیں۔

عارف عباسی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس معاملے میں واضح اور سخت موقف اختیار کرنا چاہیے۔