ہارون لورگاٹ سے بھارتی بورڈ ناراض کیوں؟

جنوبی افریقی کرکٹ نے بی سی سی آئی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انہیں سی ای او بنایا تھا
،تصویر کا کیپشنجنوبی افریقی کرکٹ نے بی سی سی آئی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انہیں سی ای او بنایا تھا

بھارتی کرکٹ ٹیم کے جنوبی افریقہ کے دورے سے یہ سوال سامنے آیا ہے کہ آخر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) جنوبی افریقہ کرکٹ تنظیم (سي ایس اے) کے سربراہ ہارون لورگاٹ کو پسند کیوں نہیں کرتا۔

لورگاٹ بین الاقوامی کرکٹ کونسل ( آئی سی سی ) کے چیف ایگزیکٹو افسر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ اس عہدے پر چار سال فائز تک رہے۔

بی بی سی ہندی کے لیے اپنے ایک مضمون میں سنجے شریواستو لکھتے ہیں کہ انھیں کے دور میں ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ مضبوط ہوا تھا۔ ہر چند کہ اس دوران کئی ایسے مواقع آئے جب بی سی سی آئی کو لورگاٹ کا طریقۂ کار پسند نہیں آیا۔

بی سی سی آئی اور لورگاٹ کے درمیان سب سے بڑا تنازع اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے لارڈ وولف کمیٹی تشکیل دی اور تمام ممالک کے کرکٹ بورڈ کے لیے ضابطۂ اخلاق بنانے اور انتظامیہ کا ایک معیار قائم کرنے کی کوشش کی۔

اس کمیٹی نے جو سفارشات دیں بھارتی کرکٹ بورڈ کو وہ بھی ناگوار گزريں کیونکہ وولف کمیٹی نے بھارتی بورڈ کو اپنی انتظامیہ کے طرز عمل میں تبدیلی لانے کی نصیحت کے ساتھ بورڈ کے طریقۂ کار پر بھی سوال اٹھائے۔

واضح رہے کہ بی سی سی آئی نے شروع میں ہی اس کمیٹی کی تشکیل پر اپنی مخالفت ظاہر کی تھی لیکن اس کے باوجود نہ صرف کمیٹی بنی بلکہ اس کی رپورٹ بھی عام ہوئی۔ ہریانہ اور پنجاب کے ریٹائرڈ چیف جسٹس مکل مدگل بھی اس کمیٹی کے رکن تھے۔

اگر اس کمیٹی کی تجاویز نافذ ہوتیں تو بی سی سی آئی سمیت کئی ممالک کے کرکٹ بورڈ کا بنیادی ڈھانچہ ہی بدل جاتا۔

کمیٹی کی سفارشات میں ایک تجویز سیاستدانوں کو کرکٹ بورڈ سے دور رکھنے کی بھی تھی۔

بہر حال لورگاٹ کے آئی سی سی کے عہدے سے ہٹتے ہی اس کمیٹی کی رپورٹ سرد خانے میں ڈال دی گئی۔

اسی طرح بی سی سی آئی کی چاہت کے برخلاف امپائر کے فیصلہ پر نظر ثانی یا جائزے کے نظام ( ڈي آر ایس) کو کرکٹ میں نافذ کیا گیا۔ بہرحال بی سی سی آئی نے اسے نافذ کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

لورگاٹ آئی سی سی میں اپنی مدت میں توسیع بھی چاہتے تھے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ لورگاٹ نے کئی بار علامتی طور پر بی سی سی آئی کو پشیمان کیا تھا۔

2011 میں جب بھارت میں ورلڈ کپ کا انعقاد ہوا تب بھی لورگاٹ کے کئی تبصرے بی سی سی آئی کو ناراض کرنے والے کہے گئے۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے سے ہٹنے کے بعد لورگاٹ سری لنکن کرکٹ بورڈ سے بھی منسلک ہونا چاہتے تھے۔

گذشتہ دنوں بھارتی کرکٹ بورڈ تنازعے کا شکار رہا ہے
،تصویر کا کیپشنگذشتہ دنوں بھارتی کرکٹ بورڈ تنازعے کا شکار رہا ہے

قلیل مدت کے لیے وہ سری لنکن بورڈ کے مشیر بھی رہے۔ میڈیا میں اس وقت یہ خبریں آئی تھیں کہ بی سی سی آئی کی ناپسندیدگی کی وجہ سے انہیں اس عہدے سے ہٹنا پڑا۔

سی ایس اے میں ان کے سی ای او بننے سے پہلے بھی بی سی سی آئی نے ان کے نام پر ناراضگی ظاہر کی تھی لیکن جنوبی افریقی کرکٹ نے بی سی سی آئی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انہیں سی ای او بنایا تھا۔

سی ای او بننے کے بعد لورگاٹ نے کئی بار بی سی سی آئی سے اختلافات دور کرنے کی کوشش کی لیکن بات نہ بن پائی۔ نتیجتاً بی سی سی آئی نے بھارتی ٹیم کے دورۂ جنوبی افریقہ کو ختم کرنے کا ارادہ کر لیا۔

اب یہ دورہ اس شرط پر ہو رہا ہے کہ لورگاٹ ٹیم انڈیا کے دورے سے نہ صرف الگ رہیں گے بلکہ بی سی سی آئی کے ساتھ کسی بھی بات چیت میں انہیں شامل نہیں کیا جائے گا۔

لورگاٹ نسلی طور پر ہندوستانی ہیں۔ ان کا خاندان کافی پہلے گجرات سے جنوبی افریقہ چلا گیا تھا۔ انہوں نے وہیں تعلیم حاصل کی۔ وہاں انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔ وہ اس وقت جنوبی افریقہ میں جاری نسل پرستی کی پالیسیوں کی وجہ سے قومی ٹیم میں جگہ نہیں پا سکے۔