دبئی: دباؤ میں مصباح اور یونس کی ذمہ دارانہ بلے بازی

دبئی میں سری لنکا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز مصباح الحق اور یونس خان کی ذمہ دارانہ بلے بازی کی بدولت پاکستان کی مشکلات کچھ کم تو ہوئی ہیں لیکن میچ پر سری لنکا کی گرفت اب بھی مضبوط ہے۔
جمعہ کو تیسرے روز کے کھیل کے اختتام پر پاکستان نے اپنی دوسری اننگز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 132 رنز بنا لیے اور اسے سری لنکا کی پہلی اننگز کی 223 رنز کی برتری کے خاتمے کے لیے مزید 91 رنز درکار ہیں۔
<link type="page"><caption> تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/88603" platform="highweb"/></link>
جب خراب روشنی کی وجہ سے کھیل روکا گیا تو کریز پر تجربہ کار بلے باز یونس خان اور مصباح الحق موجود تھے اور ان دونوں کے درمیان 113 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت ہوئی ہے۔
اس دوران دونوں بلے بازوں نے نصف سنچری بنائی ہیں جبکہ مصباح نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے تین ہزار رنز بھی مکمل کر لیے ہیں۔
پاکستان کی دوسری اننگز کا آغاز بھی اوپنر احمد شہزاد کے لیے مختلف نہیں رہا اور وہ صرف نو رنز بنا کر کھانے کے وقفے سے قبل کے آخری اوور کی پانچویں گیند پر ہیراتھ کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔

لنچ کے فوری بعد پردیپ نے محمد حفیظ اور وکٹوں کے پیچھے کیچ کروا دیا جبکہ پہلی اننگز کے ٹاپ سکورر خرم منظور بھی پردیپ کا ہی دوسرا شکار بنے۔
اس سے قبل سری لنکن بلے باز تیسرے روز ٹیم کے مجموعی سکور میں صرف 70 رنز کا ہی اضافہ کر سکے اور پوری ٹیم 388 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔
سری لنکن اننگز کی خاص بات مہیلا جے وردھنے کی عمدہ سنچری تھی، وہ 129 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کے علاوہ کوشل سلوا صرف پانچ رنز کے فرق سے اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے، انھوں نے 10 چوکوں کی مدد سے 95 رنز بنائے۔
پاکستان کی جانب سے جنید خان نے تین اور سعید اجمل اور راحت علی نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ بلاول بھٹی اور محمد حفیظ نے ایک ایک وکٹ حاصل کر سکے۔’
اس میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی اور پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں 165 رنز بنائے تھے۔
ابوظہبی میں پاکستان اور سری لنکا کے مابین کھیلا جانے والا پہلا ٹیسٹ میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا تھا۔



