جیتا ہوا میچ ہارتے ہارتے جیت ہی گئے

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سری لنکن بیٹنگ لائن کی بڑی توپیں خاموش کرانے کے بعد شاید مصباح الحق کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو گا کہ ان کے بولر سری لنکن ٹیل اینڈرز کو اتنی بری بولنگ کریں گے کہ میچ بچانے کے لالے پڑ جائیں گے۔
پرسنا اور سینانائیکے نے پاکستان کی جھولی میں جاتے ہوئے میچ کو اپنی طرف کھینچنے کی زبردست کوشش کی اس میں اگرچہ انھیں کامیابی تو نہ ملی لیکن میچ ہار کر بھی وہ شائقین کے دل جیت گئے۔
ان دونوں نے منجھے ہوئے بیٹسمینوں کی طرح کھیلتے ہوئے آٹھویں وکٹ کے لیے 87 رنز کی پرجوش شراکت سے پاکستانی بولنگ کو حواس باختہ کر دیا۔
پاکستانی ٹیم کی خوش قسمتی تھی کہ 12ویں کھلاڑی انور علی نے دوسری کوشش میں سینانائیکے کا کیچ لے لیا۔آخری اوور میں سری لنکا کو جیت کے لیے 14 رنز درکار تھے لیکن پرسنا اس مشن کو مکمل نہ کر سکے۔
سری لنکن ٹیم اگر 323 کا ہدف عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتی تو یہ شارجہ سٹیڈیم میں کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا ہدف حاصل کر کے میچ جیتنے کا ریکارڈ ہو جاتا۔
شیشے کی طرح چمکتی وکٹ پر سری لنکا کی طرف سے پاکستانی بولنگ کو بھرپور جواب ملنے کی توقع تھی۔
66 رنز کے اچھے آغاز کے بعد تلکارتنے دلشن آؤٹ ہوئے تو سری لنکا کی آس سنگاکارا اور کوشل پریرا سے بندھی ہوئی تھی۔ پریرا نے ٹی ٹوئنٹی کی طرح اس بار بھی بولرز پر دھاک بٹھائی لیکن ایک بڑے ہدف تک پہنچنے کے لیے ان کی نصف سنچری ناکافی ثابت ہوئی۔
عمراکمل کے دوسری کوشش میں لیے گئے کیچ نے سال کے بہترین ون ڈے کرکٹر سنگاکارا کی اننگز کا بھی خاتمہ کر دیا۔
چندی مل، کپتان میتھیوز اور تھری مانے بڑھتے ہوئے رن ریٹ کو گرفت میں لانے میں کامیاب نہ ہو سکے اور ہر گرتی وکٹ پاکستانی ٹیم کو جیت کے قریب کرتی جا رہی تھی کہ آخری چند اوورز میں کھیل کا توازن تیزی سے تبدیل ہوگیا۔
اس سے قبل پاکستانی اننگز میں شرجیل خان اور صہیب مقصود کے زبردست ٹیلنٹ نے یہ ظاہر کر دیا کہ وہ بیٹنگ لائن کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
یہ انھی دونوں کی عمدہ بیٹنگ تھی جس نے پاکستانی ٹیم کو ایک بڑے سکور تک پہنچنے کا حوصلہ دیا لیکن پاکستان کے نقطہ نظر سے سب سے خوشی کی بات سنچری کی شکل میں محمد حفیظ کے برے دنوں کا خاتمہ تھا۔
مصباح الحق نے محمد حفیظ کے برعکس ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کو ترجیح دی۔ ٹی ٹوئنٹی کی نصف سنچری شرجیل خان کو پہلی بار ون ڈے میں لے آئی اور اس کی ابتدا انھوں نے نصف سنچری سے کی ۔
ان کی اننگز میں بلا کا اعتماد تھا ۔انھوں نے لستھ مالنگا کے ایک اوور میں دو چوکے اور ایک چھکا لگانے کے بعد تشارا پریرا کے ساتھ بھی یہی سلوک دو چھکے اور ایک چوکے کی صورت میں روا رکھا۔
وہ سلیم الٰہی کے بعد اولین ون ڈے انٹرنیشنل میں سنچری بنانے والے دوسرے پاکستانی بن سکتے تھے لیکن 61 کے سکور پر لانگ آن پر جاتا ہوا چھکا باؤنڈری پر سینانائیکے کے خوبصورت کیچ میں تبدیل ہوگیا۔
محمد حفیظ نے ابتدا میں پھونک پھونک کر قدم بڑھائے لیکن نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد ان میں اعتماد آ گیا۔ نتیجہ ساتویں ون ڈے سنچری کی صورت میں سب کے سامنے تھا۔ ان کی چھٹی سنچری نو اننگز پہلے ہرارے میں زمبابوے کے خلاف بنی تھی۔

حفیظ اور صہیب مقصود کی شراکت نے ٹیم کو قیمتی 140 رنز دیے۔صہیب مقصود نے پرسنا اور سینا نائیکے کی گیندوں پر خوب ہاتھ کھولا لیکن شرجیل خان کی طرح وہ بھی اپنی عمدہ اننگز کو تین ہندسوں میں تبدیل نہ کر سکے اور 73 کے سکور پر محمد حفیظ کے ساتھ غلط فہمی کے سبب وکٹ گنوا بیٹھے۔
پاکستانی ٹیم نے آخری دس اوورز میں 103 رنز بنائے۔ رنز کی اس بہتی گنگا میں شاہد آفریدی بھی پیچھے رہنے کے لیے تیار نہ تھے انھوں نے تین چھکے اور دو چوکے لگا کر شائقین کو خوش ہونے کا اچھا موقع فراہم کیا۔
پاکستانی اننگز میں رنز کی رفتار جس ڈگر پر چل پڑی تھی اسے دیکھتے ہوئے مصباح الحق نے خود کریز پر آنا مناسب نہ سمجھا جنھیں اس سال سب سے زیادہ رنز سکور کرنے والا بیٹسمین بننے کے لیے صرف 46 رنز درکار ہیں۔



