’دوبارہ بھی فاسٹ بولر بننا پسند کروں گا‘

وقار یونس پانچویں پاکستانی کھلاڑی ہیں جنہیں آئی سی سی کے ہال آف فیم میں شامل کیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنوقار یونس پانچویں پاکستانی کھلاڑی ہیں جنہیں آئی سی سی کے ہال آف فیم میں شامل کیا گیا ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

وقار یونس کبھی شارجہ کرکٹ سٹیڈیم کے سٹینڈ میں بیٹھ کر عمران خان کو بولنگ کرتے دیکھا کرتے تھے پھر ایک وقت آیا کہ وہ انھی کی کپتانی میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے اور اب وہ عمران خان کے ساتھ آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل ہیں۔

وقار یونس آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل ہونے والے پانچویں پاکستانی کرکٹر ہیں۔ ان سے قبل یہ اعزاز عمران خان، جاوید میانداد، حنیف محمد اور وسیم اکرم کو حاصل ہو چکا ہے۔

وقار اپنےدور کےتیز ترین بولروں میں سے ایک تھے
،تصویر کا کیپشنوقار اپنےدور کےتیز ترین بولروں میں سے ایک تھے

’میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ حنیف محمد، عمران خان اور جاوید میانداد جیسے عظیم کھلاڑیوں کی فہرست میں مجھے بھی شامل کیا گیا ہے ۔ میں چند سال شارجہ میں رہا اور جب بھی پاکستانی ٹیم وہاں میچز کھیلتی میں سٹیڈیم جاکر عمران خان کو دیکھا کرتا تھا جن کےساتھ میرا کھیلنے کا خواب بھی پورا ہوا اور ہال آف فیم میں بھی میرا نام ان کے ساتھ درج ہوا ہے۔‘

وقار یونس کہتے ہیں کہ فاسٹ بولنگ سے انہیں جنون کی حد تک محبت ہے۔

’فاسٹ بولنگ کا اپنا ایک الگ مزا ہے۔ اس میں سنسنی خیزی ہے، جوش ہے۔ جب آپ کی تیز گیند پر بیٹسمین کی وکٹ دور جاگرتی ہے کسی کے پیڈ پر یا کسی کے سر پر گیند لگتی ہے تو ایک عجب سا احساس ہوتا ہے کہ ہر چیز آپ کے کنٹرول میں ہے۔ فاسٹ بولر کے طور پر میں نے ایک ایک لمحے سے لطف اٹھایا ہے اور میں دوبارہ فاسٹ بولر ہی بننا پسند کروں گا۔‘

وقار یونس نے ٹیسٹ کرکٹ میں 373 اور ون ڈے میں 416 وکٹیں حاصل کیں جبکہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کی وکٹوں کی تعداد 956 رہی۔اس شاندار کارکردگی پر وہ مطمئن ہیں:

’مجھے بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی پہلی گیند اچھی طرح یاد ہے۔ سچن تندولکر کے ساتھ اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز مجھے جیسے کل ہی بات معلوم ہوتی ہے۔ میں نے ہی انہیں آؤٹ کیا تھا۔ گو کہ مجھے گلین میک گرا کی طرح اپنی ہر وکٹ تو یاد نہیں لیکن کئی وکٹیں ذہن میں محفوظ ہیں۔ یہ میرا اثاثہ ہیں یہ میری سخت محنت کا نتیجہ ہے۔‘

وقار یونس کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اس سے وابستگی کو کھیل سے اپنی محبت کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔

’میں کرکٹ سے بہت محبت کرتا ہوں اسی لیے میں نے کپتان، کوچ، بولنگ کوچ، کمنٹیٹر ہر حیثیت میں اپنا ناطہ جوڑے رکھا ہے۔ یہ بہت ہی خوبصورت کھیل ہے۔‘