’نہ کسی نے پوچھا، نہ کسی سے بات ہوئی، سب افواہیں ہیں‘

وقاریونس گیارہ ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی ٹیم کے کوچ رہے
،تصویر کا کیپشنوقاریونس گیارہ ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی ٹیم کے کوچ رہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سابق ٹیسٹ کرکٹر وقار یونس کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نگراں چیئرمین نجم سیٹھی سے ان کی ملاقات ہی نہیں ہوئی ہے تو کوچ کے عہدے کی پیشکش اور شرائط کا کیا سوال؟

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے موجودہ کوچ ڈیو واٹمور کے معاہدے کی تجدید نہ کیے جانے کے اعلان کے بعد کوچ کے عہدے کے لیے متعدد نام ذرائع ابلاغ کی سرخیوں اور بریکنگ نیوز میں سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نگراں چیئرمین نجم سیٹھی نے گذشتہ دنوں دبئی میں وقار یونس سے ملاقات میں انہیں کوچ کے عہدے کی پیشکش کی تھی جس پر وقار یونس نے چند شرائط رکھی ہیں۔

وقار یونس نے سڈنی سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ نجم سیٹھی سے ان کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے اور جب ملاقات ہی نہیں ہوئی تو کوچ کے عہدے کی پیشکش یا شرائط کیسی؟

وقاریونس نے کہا کہ وہ چاہیں گے کہ نجم سیٹھی سے ملاقات کریں کیونکہ وہ ان کے حالات حاضرہ پر تجزیے شوق سے ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔

وقار یونس نے کہا کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ان سے رابطہ کیا گیا تو وہ ضرور بات کریں گے لیکن فی الحال ان سے کسی نے کوئی بات نہیں کی ہے۔

اس سوال پر کہ اگر انہیں کوچ کے عہدے کی پیشکش ہوئی تو اسے قبول کر لیں گے؟

وقاریونس نے کہا کہ یہ کہنا قبل ازوقت ہے کیونکہ ڈیوواٹمور اب بھی پاکستانی ٹیم کے کوچ ہیں۔ جب پاکستان کرکٹ بورڈ نئے کوچ کے لیے اشتہار دے گا تو یقیناً وہ اس بارے میں سوچیں گے۔

وقار یونس نے کہا کہ واٹمور کے معاہدے کی تجدید نہ کیے جانے کا میڈیا میں اعلان کر دینا مناسب نہیں ہے اس سے ٹیم پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ ابھی جنوبی افریقہ کے دورے کے بعد ٹیم کو سری لنکا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں سیریز کھیلنی ہے۔

وقار یونس نے کہا کہ بحیثیت کوچ وہ اپنی تمام تر کامیابیوں کا سہرا سابق چیئرمین اعجاز بٹ کے سر باندھتے ہیں۔اگرچہ ان کے ساتھ کچھ غلط فہمیاں بھی پیدا ہوئیں لیکن انہوں نے کوچ کی حیثیت سے ان کی ہمیشہ حمایت کی۔

وقاریونس 11 ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی ٹیم کے کوچ رہے جن میں پانچ جیتے، پانچ ہارے اور ایک برابر رہا۔

بحیثیت کوچ ان کے دور میں ٹیم نے 36 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں سے 22 میں کامیابی حاصل کی۔

ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم نے 18 میں سے چھ میچ جیتے اور 12 میں اسے شکست ہوئی۔