سچن کے آؤٹ ہونے پر سکتہ طاری

سچن تندولکر اپنی زندگی کے آخری ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 74 کے رنز پر آؤٹ ہوئے تو پورے سٹیڈیم پر مکمل خاموشی طاری ہو گئی اور اس کے ساتھ ہی بھارت کے کروڑوں کرکٹ شائقین کی امیدیں ٹوٹ کر بکھر گئیں کہ سچن سنچری بنا کر ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہوں گے۔
اس وقت میچ جس نہج پر چل رہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید بھارت کو دوسری اننگز کھیلنے کی نوبت نہ آئے، اور یوں ممبئی کے وانکھیڑے سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ کی پہلی اننگز ہی شاید سچن تندولکر کی آخری اننگز ثابت ہو۔
دنیائے کرکٹ کے بے شمار ریکارڈ توڑنے والے کرکٹر سچن جب پہلے ٹیسٹ کے دوسرے دن سلپ میں کیچ آؤٹ ہوئے تو سٹیڈیم کو چپ لگ گئی۔ یہ چپ اس وقت ٹوٹی جب سچن پویلین کی طرف چلنا شروع ہوئے۔ اس موقعے پر سٹیڈیم میں موجود ہر شخص نے کھڑے ہو کر انھیں خراج تحسین پیش کیا۔
آج صبح جب وہ اپنے اننگز دوبارہ شروع کرنے کے لیے کریز پر آئے تھے تو پورا سٹیڈیم نعروں سے گونج رہا تھا اور بھارت میں کروڑوں کرکٹ شائقین ان کے لیے دعائیں، پرارتھنائیں اور پوجا پاٹ کر رہے تھے۔
40 سالہ سچن ٹیسٹ کرکٹ اور ایک روزہ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز اور سنچریاں سکور کرنے اور 24 سال تک مسلسل کرکٹ کھیلنے کے بعد ریٹائر ہو رہے ہیں۔
وانکھیڑے سٹیڈیم کے باہر جمعے کی صبح شائقین کرکٹ منہ پر بھارت کے جھنڈے کے رنگ سجائے اور بھارتی جھنڈے اٹھائے لمبی قطاروں میں کھڑے سٹیڈیم میں داخل ہونے کا انتظار کر رہے تھے تا کہ اندر جا کر سچن کی آخری اننگز دیکھ سکیں۔
بھارت کے اخبارات نے بھی جمعے کو سچن کی خبر سرورق کی شہ سرخیوں میں لگائی۔ ہندوستان ٹائمز نے اپنی سرخی میں لکھا: ’اڑتیس رن پر، اربوں لوگوں کی دعائیں۔‘ ایشیئن ایج اخبار نے لکھا، ’انڈیا بڑی اننگز کے انتظار میں۔‘
تندولکر نے 40 اننگز سے کوئی سنچری نہیں بنائی۔ انھوں نے اپنی آخری ٹیسٹ سنچری اور مجموعی طور پر 51ویں ٹیسٹ سنچری دو سال قبل جنوبی افریقہ کے خلاف جنوری 2011 میں بنائی تھی۔
اس وقت سے اب تک انھوں نے آٹھ مرتبہ نصف سنچری بنائی ہے جس میں اوول کرکٹ گراؤنڈ پر انگلینڈ کے خلاف 91 رنز اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ممبئی میں 94 کی اننگز شامل ہے۔
حالیہ برسوں میں ان کی گرتی ہوئی فارم کی وجہ سے کچھ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ وہ اب کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں تو بہتر ہے، لیکن بھارت میں ان کے شائقین کے جوش و جذبہ میں کوئی کمی نہیں آئی۔
سچن کی والدہ معذور ہیں اور چل پھر نہیں سکتیں۔ انھوں نے ویل چیئر پر اپنے بیٹے کی آخری اننگز دیکھی۔ ان کے لیے خصوصی طور پر ریمپ بنائی گئی تھی تاکہ وہ سٹڈیم میں آ کر میچ دیکھ سکیں۔



