کچھ شہر کے لوگ بھی ظالم تھے ۔۔۔

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
جنوبی افریقی ٹیم یقیناً ظالم سہی لیکن مرنے کا شوق تو پاکستانی بیٹسمینوں کو بھی ہے۔
دو سو ساٹھ رنز اتنا بڑا ہدف نہ تھا کہ لرزہ طاری ہو جاتا لیکن بیٹسمینوں نے ایک بار پھر ہوا میں تیر چلائے اور تسلسل کے ساتھ غیر مستقل مزاج کارکردگی دکھانے کی اپنی خصوصیت خوب دکھائی۔
یہ اس سال پاکستانی ٹیم کی ساتویں شکست ہے جس میں اس نے اپنے لیے ہدف تک پہنچنے کا راستہ خود بند کیا۔
نصف سنچری اوپننگ شراکت کے بعد ٹیم کی سنچری بننے تک آدھی ٹیم مفلوج ہوچکی تھی۔
احمد شہزاد اور محمد حفیظ کے آؤٹ ہونے کے بعد مصباح الحق اور عمرامین کریز پر موجود تھے لیکن جب یہ دونوں صرف آٹھ گیندوں کے فرق سے آؤٹ ہوئے تو نوشتہ دیوار پڑھا جا چکا تھا۔
اسد شفیق، عمراکمل اور شاہد آفریدی نے جس طرح بیٹنگ کی وہ محض خانہ پری معلوم ہوتا تھا۔ جو کام انہیں کرنا چاہیے تھا وہ وہاب ریاض اور سہیل تنویر نے کرنے کی کوشش کی جس پر جنوبی افریقی بولرز کی جھنجھلاہٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ لیکن یہ دونوں شکست کا فرق ہی کم کر پائے۔
عمران طاہر نے مصباح، اسد شفیق اور عمراکمل کو آؤٹ کر کے انتیسویں اوور میں ہی میچ جنوبی افریقہ کے حق میں کر دیا تھا۔ اننگز میں انہیں چوتھی وکٹ اپنے آخری اوور میں سعید اجمل کی ملی۔
اس سے قبل پاکستانی بولنگ بھی ملی جلی رہی جس میں پہلے دو میچوں جیسی گھن گرج نہ تھی۔
ہاشم آملا کی وکٹ اگرچہ جلدی مل گئی تھی۔ محمد عرفان نے انتہائی خوبصورت گیند پر ان کا دفاع توڑا جس کے بعد اگلی وکٹ کے لیے پاکستانی بولرز کو اٹھارہ اوورز انتظار کرنا پڑا۔
نوجوان ڈی کاک اور ڈوپلیسی نے سپن ٹروئیکا کو اعتماد سے کھیلا اور وہاب ریاض کو تختہ مشق بنایا۔ ڈی کاک نے اپنی اننگز میں متعدد خوبصورت سٹروکس کھیلے لیکن وہ شاہد آفریدی کی گیند پر دھوکہ کھاگئے اور سٹمپ ہوگئے۔
ڈوپلیسی کے آؤٹ ہونے کا بھی یہی انداز رہا لیکن پچھلی گیارہ اننگز کی ناکامیوں کے بعد نصف سنچری ان کے لیے سکون کا باعث تھی۔
ڈومینی اور اے بی ڈی ویلئرز کی سّتر جبکہ ڈومینی اور ڈیوڈ ملر کی اکسٹھ رنز کی شراکت نے جنوبی افریقہ کے اسکور میں جان ڈالی۔
محمد عرفان سےاننگز کا آخری اوور کرانے کا فیصلہ ایک چھکے اور ایک چوکے کے بدلے دو وکٹیں دلا گیا ۔
اس دورے میں محمد عرفان نے فاسٹ بولنگ کی ذمہ داری بخوبی نبھائی ہے۔ دو ٹیسٹ اور تین ون ڈے میں وہ چھیانوے اوورز کر چکے ہیں جس میں انہوں نے چودہ وکٹیں بھی حاصل کی ہیں۔ کارکردگی اور فٹنس کے اعتبار سے یہ سب کچھ بہت اچھا سہی لیکن ایسا نہ ہو کہ وہ مسلسل کھیلتے رہنے سے تھکاوٹ کا شکار ہو جائیں۔
محمد عرفان کا بوجھ بانٹنے کے لیے جنید خان موجود ہیں۔ سہیل تنویر نے کسی حد تک بہتر بولنگ کی ہے لیکن وہاب ریاض نے کسی بھی میچ میں پورے اوورز نہیں کرائے ہیں اور کسی بھی موقع پر وہ بیٹسمینوں کے لیے خطرہ نہیں بنے ہیں۔ اس سال چودہ ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں وہاب ریاض نے صرف آٹھ وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ان چودہ میں سے صرف تین میچز میں انہوں نے پورے دس اوورز کرائے ہیں۔



