کولکتہ میں سچن کے 199 ویں ٹیسٹ میچ کے موقع پر جشن کا سماں

سچن ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز اور سنچریاں بنانے والے کھلاڑی ہیں
،تصویر کا کیپشنسچن ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز اور سنچریاں بنانے والے کھلاڑی ہیں

بھارت میں دیوالی کے تہوار کا سیزن تقریباً ختم ہو گیا ہے لیکن کولکتہ میں دیوالی کا جشن اب شروع ہوا ہے کیونکہ سچن وہاں آخری بار ٹیسٹ کھیل رہے ہیں۔

کولکتہ کے ایڈن گارڈن میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کی پوری ٹیم چائے کے وقفے کے بعد 234 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

پہلے دن جب کھیل ختم ہوا تو بھارت نے پہلی اننگز میں بغیر کسی نقصان کے 37 رنز بنائے تھے۔

ویسٹ انڈیز کی اننگز کے دوران چائے کے وقفے سے قبل آخری اوور کے لیے تندولکر آئے اور انھوں نے اپنی چوتھی گینڈ پر شیلنگ فورڈ کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا تو تماشائیوں نے شور مچا کر میدان سر پر اٹھا لیا۔

کولکتہ سے بی بی سی کے نمائندے پی ایم تیواری نے خبر دی ہے کہ وہاں جشن کا ماحول ہے۔پی ایم تیواری نے کہا کہ ’یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ فٹبال کا گڑھ کہا جانے والا کولکتہ فی الحال کرکٹ کے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے۔‘

بنگال کرکٹ ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکریٹری سوبیر گانگولی کہتے ہیں ’یہ سچن کا تہوار ہے جو پورے ہفتے تک چلے گا۔‘

مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ میں سچن کے 199 ویں ٹیسٹ کے سلسلے میں شروع سے جو ماحول تیار کیا جا رہا تھا وہ اب جنون کی حد تک پہنچ گیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے اور اس کی وجہ سے برسوں بعد ایڈن گارڈن میں کھیلے جانے والے کسی ٹیسٹ میچ کے دوران تمام نشستیں بھری نظر آئیں گي۔

دنیا بھر کے اخباری نمائندے اور ٹی وی چینلز گھوم گھوم کر اس جوش کو دیکھ رہے ہیں جہاں گلی محلے، چوک چوراہے میں چائے پان کی دکانوں تک میں بس سچن اور ان کے 199 ویں میچ کی ہی بات ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ اس کے بعد سچن تنڈولکر اپنا 200 واں اور آخری میچ اپنے آبائی شہر ممبئی میں کھیلیں گے اور یہ اعزاز پانے والے وہ دنیا کے پہلے اور شاید آخری کھلاڑی ہوں گے۔

کولکتہ ٹیسٹ پر صرف کرکٹ شائقین کی نگاہیں ہی نہیں لگی ہیں، سٹے باز بھی بڑی بے صبری سے اس کا انتظار کر رہے ہیں۔

ایڈن پر سچن کی آخری اننگز دیکھنے کے لیے جہاں ان کے پرستار اور کرکٹ کے شائقین بے تاب ہیں، وہیں سٹے باز بھی یہ سنہری موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے۔

تندولکر اس سے قبل ون ڈے، ٹی ٹوئنٹی، فرسٹ کلاس کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنتندولکر اس سے قبل ون ڈے، ٹی ٹوئنٹی، فرسٹ کلاس کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں

اس میچ میں سچن کی ہر بات پر سٹہ لگ رہا ہے۔ مثلاً وہ بلے بازی کرنے کس دن میدان میں اتریں گے، کتنے رنز بنائیں گے، رن بنانے کا آغاز ایک رن لے کر کریں گے یا چوکے سے، ان کو آؤٹ کون کرے گا اور وہ فیلڈنگ کہاں کریں گے۔ گذشتہ دو دنوں کے دوران سٹے بازی کا کاروبار اتنا تیز ہوا ہے کہ سٹے بازوں کو سانس لینے کی فرصت نہیں ہے۔

کولکتہ کے سٹے بازوں کے مطابق اس میچ پر اب تک آٹھ سو کروڑ روپے کا سٹہ لگ چکا ہے لیکن اگلے دو تین دنوں میں اس بڑھ کر ہزار کروڑ کا ہندسہ پار کرنے کی امید کی جا رہی ہے۔

پی ایم تیواری کہتے ہیں کہ ملک میں گذشتہ ورلڈ کپ کے بعد کسی میچ اور وہ بھی ٹیسٹ میچ پر کبھی اتنی بڑی رقم داؤ پر نہیں لگی ہے۔

کولکتہ کے الٹاڈانگا علاقے کے ایک سٹے باز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اپنے کیریئر کے آخری میچ میں ممبئی کو فتح سے ہمکنار کرنے والی سچن کی اننگز کے بعد سٹے کے بھاؤ چڑھے ہیں۔

سٹے بازوں سمیت عام لوگوں نے بھی مان لیا ہے کہ ایڈن میں اس بار سچن کی کارکردگی بہتر رہے گي۔