اسلام آباد:نجم سیٹھی کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی حکم عدولی پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی معطل شدہ انتظامی کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی کو توہینِ عدالت کے معاملے میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے انتخابات میں قواعد و ضوابط کی پاسداری نہ کیے جانے کے معاملے کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 29 اکتوبر کو عبوری نگراں کمیٹی کو معطل کرتے ہوئے اس کے سربراہ نجم سیٹھی کو کام کرنے سے روکنے کا حکم دیا تھا۔
نجم سیٹھی نے اس حکم کے چند گھنٹے بعد ٹوئٹر پر کہا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس حکم پر حکمِ امتناعی جاری کیا ہے اور وہ اب بھی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ہیں۔
تاہم 31 اکتوبر کو اپنے تفصیلی فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایسے کسی حکمِ امتناعی کا ذکر نہیں کیا تھا۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جمعرات کو اس معاملے پر ملتان کرکٹ ایسوسی ایشن سے وابستہ احمد نواز کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی کہ عدالت کی حکم عدولی پر نجم سیٹھی کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔
جمعہ کو اس درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے نجم سیٹھی کے بیان کا نوٹس لیا اور چیئرمین کا عہدہ چھوڑنے کے حکم پر عمل نہ کرنے پر انہیں توہینِ عدالت کے معاملے میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا۔
خیال رہے کہ عدالت عبوری نگراں کمیٹی کے پانچوں ارکان کو عدالتی احکامات کی حکم عدولی پر پہلے ہی نوٹس جاری کر چکی ہے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے رواں برس مئی میں ذکاء اشرف کو پی سی بی کے چیئرمین کا عہدہ رکھنے سے روک دیا تھا اور ان کی تقرری کو آلودہ فیصلہ قرار دیا تھا۔
اس کے بعد معروف صحافی نجم سیٹھی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا عبوری چیئرمین تعینات کیا گیا۔ تاہم عدالت نے کہا تھا کہ ان کی تقرری بطور قائم مقام نہیں بلکہ نگراں چیئرمین ہے اور انہیں بورڈ سے متعلق کوئی بڑا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں۔
عدالت نے نجم سیٹھی کو90 دن میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے الیکشن کرانے کے لیے بھی کہا تھا۔
یہ مدت اٹھارہ اکتوبر کو ختم ہونی تھی تاہم اس سے پہلے ہی پندرہ اکتوبر کو پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے نجم سیٹھی کی سربراہی میں ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کا انتظام چلانے کے لیے پانچ رکنی ایڈہاک منیجمنٹ کمیٹی قائم کر دی تھی۔



