فٹبال سے نسل پرستی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات ضروری: بلاٹر

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر سیپ بلاٹر نے فٹبال میں نسل پرستی سے نمٹنے کے لیے سخت پابندیوں کی خواہش ظاہر کی ہے۔
فیفا کے صدر نے کہا کہ فٹبال سے نسل پرستی کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جائیں جس میں کسی ٹیم کی رکنیت منسوخ کرنے اور ان کے پوائنٹس کم کرنا بھی شامل ہو۔
اس ہفتے یوئیفا نے ماسکو کے سی ایس کے اے کے خلاف تادیبی مقدمے کی سماعت شروع کی۔
واضح رہے کہ مانچسٹر سٹی کے یایا ٹورے نے شکایت کی تھی کہ وہ سی ایس کے اے کے مداحوں کے ہاتھوں نسل پرست زیادتی کا نشانہ بنے تھے۔
بلاٹر نے کہا کہ جرمانے اور ٹیموں کو بند دروازوں کے پیچھے ناظرین کی عدم موجودگی میں کھیلنے کی سزائیں نا مناسب ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ٹیموں کو کسی مقابلے سے خارج کرنے اور ان کے پوائنٹس کم کرنے کی سزائیں دینے کی ضرورت ہے۔‘
فٹبال ایسوسی ایشن کی 150 ویں سالگرہ کے موقع پر لندن میں منعقدہ عشائیہ میں بلاٹر نے کہا: ’صرف اسی قسم کے فیصلوں کے ذریعے ہم نسل پرستی اور نسلی امتیاز کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو یہ چیزیں اسی طرح جاری رہیں گی، ہمیں اسے روکنا ہے، ہمیں ایسا کرنے کے لیے ہمت کی ضرورت ہے۔‘
ان کا یہ بیان فیفا کے نائب صدر جیفری ویب کے بیان کے بعد آيا ہے جنھوں نے کہا تھا کہ وہ آئیووری کوسٹ انٹرنیشنل ٹورے کے اہلکار سے ان کی شکایت کی بابت ملنا چاہتے ہیں۔
فٹبال کی تقریب کے سلسلے میں جیفری ویب بھی لندن میں تھے۔
سی ایس کے اے کے جنرل ڈائریکٹر رومن بابائیو کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں آئیووری کوسٹ والوں اور برطانوی میڈیا نے ضروت سے زیادہ مبالغہ آرائی کی ہے۔

77 سالہ بلاٹر نے کہا: ’فیفا کانگریس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ نسل پرستی کا مقابلہ جرمانے سے کیا جانا بے معنی ہے۔ آپ کو جرمانہ ادا کرنے کے لیے کہیں نہ کہیں سے پیسہ مل ہی جاتا ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’بغیر ناظرین کے فٹبال میچ کھیلنا بھی مضحکہ خیز ہے کیونکہ یہ فٹبال کی روح کے منافی اور مہمان ٹیم کے خلاف ہے۔‘
بلیٹر نے کہا: ’ہمیں نسل پرستی اور دوسرےامتیازات سے نمٹنے کے لیے بعض بہتر اقدام کرنے ہونگے۔‘
’یہ ہمارے کھیل میں موجود بہت سی برائیوں میں سے ایک ہے لیکن سخت پابندیوں کے ذریعے فٹبال سے نسل پرستی اور امتیازی سلوک کو ختم کیا جا سکتا ہے۔‘



