فیفا: نسل پرستی کے خلاف قوانین منظور

فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کا ماننا ہے کہ ان اقدامات نسل پرستوں کو واضح پیغام ملے گا کہ اب فٹبال میں ان کی جگہ نہیں ہے
،تصویر کا کیپشنفیفا کے صدر سیپ بلیٹر کا ماننا ہے کہ ان اقدامات نسل پرستوں کو واضح پیغام ملے گا کہ اب فٹبال میں ان کی جگہ نہیں ہے

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے نسلی پرستی کے سدباب کے لیے مجوزہ قوانین کو منظور کر لیا ہے۔

ان نئے قوانین کے اطلاق کے بعد سے ٹیموں کو نسل پرستی کے واقعات میں ملوث ہونے پر مقابلوں سے خارج کیا جا سکتا ہے۔

نسل پرستی کے واقعات میں پہلی بار ملوث ہونے یا چھوٹی نوعیت کے واقعات پر تنبیہ کی جائے گی، جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے یا پھر سٹیڈیم میں بغیر تماشائیوں کے میچ کھیلنے کا کہا جائے گا۔

دوسری بار اس نوعیت کے واقعات میں ملوث ہونے والوں کے پوائنٹس کردیے جائیں گے، مقابلے سے خارج کیا جائے گا یا ٹیم کا درجہ کم کیا جائے گا۔

فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے ’نسل پرستوں کو واضح پیغام ملے گا کہ ان کا وقت اب ختم ہو چکا ہے‘۔

ان اقدامات پر مبنی قراداد جس کا عنوان تھا ’نسل پرستی اور امتیاز کے خلاف لڑائی کا عزم‘ کو فیفا نے ننانوے فیصد ووٹوں سے منظور کیا۔

یاد رہے کہ ان دنوں فیفا کی گورننگ باڈی یا نگران کونسل کی کانگریس کا اجلاس ماریشس میں جاری ہے۔

ان تمام اقدامات کے باوجود فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کا موقف تھا کہ اس سلسلے میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

فیفا کے صدر نے کہا کہ ’اس ہال میں موجود افراد اس بات پر متفق ہیں کہ نسل پرستی کا خاتمہ کیا جائے اس حوالے سے مزید کام یہاں سے باہر جاکر کرنے والا ہے، ہمارے ملکوں میں جہاں جہاں سے ہم تعلق رکھتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں نسل پرستی کو بالکل برداشت کرنے کی ضرورت نہیں اور سخت سزائیں دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس میں رہنمائی کرنی ہے اور ایک سخت اور غیر مصالح پسندانہ مثال قائم کرنی ہے۔‘

فیفا نے ایک ٹاسک فورس قائم کی ہے جو نسل پرستی کے مسائل کا جائزہ لے گی۔ خاص طور پر ایک مقابلے کے بعد جس میں اے سی میلان اور پرو پاتریا کے درمیان ایک دوستانہ میچ نسل پرستی پر مبنی الزامات کی وجہ سے ختم کرنا پڑا تھا۔

ان قوانین کے بعد سے سٹیڈیم میں ایک خصوصی اہلکار تعینات کیا جائے گا جو نسل پرستی کے واقعات پر نظر رکھے گا جس کی وجہ سے میچ کے ریفری پر دباؤ کم ہو گا۔

کلبوں کے حوالے سے قوانین میں ایسے افراد جو نسل پرستی کے واقعات میں ملوث پائے جاتے ہیں ان کے سٹیڈیم میں داخلے پر کم از کم پانچ میچوں کے لیے پابندی عائد کی جا سکے گی۔

سابق جنوبی افریقی قیدی ٹوکیو سیکسووالے جنہیں نسلی تعصب کے دور میں قید کیا گیا تھا نے کہا ہے کہ اس ہال میں ’لگے کیمروں کو دیکھا جانا چاہیے کہ ایسے کون ہیں جنہوں نے ان قوانین کے خلاف ووٹ دیا ہے۔‘

ٹوکیو سیکسووالے جو فیفا کے رکن ہیں نے کہا کہ ’ایک فیصد جس نے اس قراداد کے حق میں ووٹ نہیں دیا وہ ظاہر کرتا ہے کیسے فٹبال کو نسل پرستی سے اب بھی مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘