’پاکستان کے پاس نہ اچھے باؤلر، نہ اچھے بلے باز‘

مصباح الحق نے ٹیم کو استحکام دیا لیکن اب ان پاس آئیڈیا ختم ہو گئے ہیں: رمیز راجہ
،تصویر کا کیپشنمصباح الحق نے ٹیم کو استحکام دیا لیکن اب ان پاس آئیڈیا ختم ہو گئے ہیں: رمیز راجہ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مینیجر اور سابق کپتان معین خان نے کہا ہے کہ زمبابوے کے خلاف پاکستان ٹیم کی کارکردگی ’اطمینان بخش‘ تھی اور ایک ٹیسٹ میں شکست پر ٹیم کو قوم سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔

زمبابوے کے خلاف ایک ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کےسابق کھلاڑی ٹیم کی کارکردگی اور کپتان مصباح الحق کی کپتانی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

معین خان نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ٹیم کا معیار گر رہا ہے ۔ انہوں کہا کہ زمبابوے کے خلاف ایک ٹیسٹ میں شکست کی وجہ پاکستان کی کمزور بیٹنگ تھی۔ انہوں نے کہا کہ زمبابوے کی ٹیم نے ہوم گراونڈ کا فائدہ اٹھایا۔

معین خان نےمقامی ذرائع ابلاغ سے باتیں کرتے ہوئے ٹیم کی کارکردگی کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا: ’ٹیم کو معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم سیریز نہیں ہارے۔ سیریز ایک ایک سے برابر رہی ہے جب کہ ہم نے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز جیتی ہیں۔‘

پاکستان کے سابق فاسٹ بولر اور ٹی وی کمنٹیٹر شعیب اختر نے کہا کہ پاکستانی ٹیم انتہا کی پستی کو پہنچ چکی ہے۔ شعیب اختر نے کہا کہ مصباح الحق پاکستان کی بدترین ٹیم کی کپتانی کر رہے ہیں۔

شعیب اختر نے کہا کہ پاکستان کے پاس نہ تو اچھے باؤلر ہیں اور نہ اچھے بیٹسمین۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس ٹیم میں مصباح الحق سب سے نمایاں بیٹسمین ہیں تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی بیٹنگ کس معیار کی ہے کیونکہ مصباح الحق بھی ورلڈ کلاس بیٹسمین نہیں ہیں۔

ایک اور سابق کھلاڑی مشتاق احمد نے کہا ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم زمبابوے کو بھی نہیں ہرا سکتی تو پھر ہماری ٹیم جنوبی افریقہ کا کیسے مقابلہ کرے گی۔

سابق کپتان اور ٹی وی کمنٹیٹر رمیز راجہ نے بھی مصباح الحق کی کپتانی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مصباح الحق کے پاس نئے خیالات کی کمی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کپتانی کی ذمہ داری کسی ایسے کھلاڑی کے حوالے کی جانی چاہیے جس کے پاس نئے خیالات ہوں۔

رمیز راجہ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مصباح الحق نے ٹیم کے ماحول کو بدلا اور ٹیم کو استحکام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بطور کپتان مصباح الحق نے ملک کی انتہائی خدمت کی ہے لیکن اب ان کے فیصلوں کے بارے میں پہلے سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔