’جرم نہیں کیا تو معافی کیسی‘ دانش کنیریا

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر لیگ اسپنر دانش کنیریا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے عدالت میں جائیں گے۔

انہوں نے کوئی جرم ہی نہیں کیا تو معافی کیوں مانگیں۔

واضح رہے کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے انضباطی پینل نے تاحیات پابندی ختم کرنے کے لیے دانش کنیریا کی اپیل مسترد کردی ہے جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک بیان میں دانش کنیریا سے کہا ہے کہ وہ اپنے ماضی کا جائزہ لینے کے بعد بحالی کے پروگرام کی طرف آئیں۔

یاد رہے کہ بحالی کے اس پروگرام میں شرکت کے لیے ضروری ہے کہ کرکٹر اپنے کیے کی سرعام معافی مانگے۔

دانش کنیریا نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ اپنے وکلاء سے مشورے کر رہے ہیں کہ اپیل مسترد کیے جانے کے بعد عدالت میں کیسے جایا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ درحقیقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ چلا رہا ہے۔ انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے جاری کردہ بیان پر اس لیے حیرت ہوئی ہے کہ جمعرات کے روز ان کی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد سے بات ہوئی جنہوں نے انہیں یقین دلایا کہ وہ ان کی عبوری چیئرمین نجم سیٹھی سے جلد ملاقات کرائیں گے تاکہ وہ اپنا معاملہ ان کے سامنے پیش کرسکیں لیکن اگلے ہی روز کرکٹ بورڈ نے بیان داغ دیا۔

دانش کنیریا نے کہا کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین جائلز کلارک نے بھی ان سے معافی مانگنے کی بات کی ہے جو سمجھ سے باہر ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے کوئی جرم ہی نہیں کیا تو کس بات کی معافی مانگیں۔

انہوں نے کہا کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اپنی گندگی صاف کرنے کے لیے ان پر ملبہ گرا رہا ہے۔ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے صرف بیانات ہیں جن پر کارروائی کرتے ہوئے ان پر تاحیات پابندی عائد کی گئی ہے۔

کنیریا نے کہا کہ مرون ویسٹ فیلڈ کو عدالت کے حکم پر انضباطی کمیٹی کے سامنے لانے سے ہی انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی نیت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے انہیں انوبھٹ سے دور رہنے کی ہدایت کی تھی لیکن انوبھٹ نے انہیں کبھی فکسنگ کے لیے نہیں اکسایا یا کوئی بات کی۔ خود مرون ویسٹ فیلڈ نے اپنے بیان میں کسی تیسرے شخص کا ذکر کیا ہے جس نے مبینہ طور پر اسے پیسے دیے تھے تو پھر کس بات کی سزا انہیں دی جا رہی ہے۔