’ای سی بی عدالتی دباؤ کا سہارا لے رہا ہے‘

لیگ سپنر دانش کنیریا نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مرون ویسٹ فیلڈ کی گواہی کے لیے عدالتی دباؤ کا سہارا لے رہا ہے۔

دانش کنیریا پر کاؤنٹی کرکٹ میں مبینہ طور پر سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر انگلینڈ اینڈ کرکٹ بورڈ نے تاحیات پابندی عائد کررکھی ہے۔ آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ اس فیصلے کی توثیق کرچکے ہیں۔

دانش کنیریا نے پابندی کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کررکھی ہے تاہم گزشتہ سال دسمبر سے یہ معاملہ اس لیے التوا کا شکار ہے کیونکہ اس سکینڈل میں شامل ایسیکس کاؤنٹی کے کرکٹر مرون ویسٹ فیلڈ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی انضباطی کمیٹی کی باربار یاد دہانی کے باوجود پیش نہیں ہوئے ہیں۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے گزشتہ دنوں مرون ویسٹ فیلڈ کی کمیٹی کی سامنے پیشی کو یقینی بنانے کے لیے انہیں لندن ہائی کورٹ کے ذریعے سمن بھیجا ہے۔ یہ سماعت بائیس اپریل کو ہونے والی ہے۔

دانش کنیریا نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ معاملہ سراسر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی کا ہے لیکن ای سی بی عدالتی دباؤ ڈال کر بدنیتی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

دانش کنیریا نے کہا کہ چار ماہ کے دوران انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے متعدد بار ویسٹ فیلڈ کو کمیٹی کے سامنے لانے کی کوشش کرکے دیکھ لی لیکن مرون ویسٹ فیلڈ اس کے لیے تیار نہیں ہوئے اب ای سی بی نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنالیا ہے۔

پاکستان کی طرف سے دو سو اکسٹھ ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے دانش کنیریا نے سوال کیا کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ اپنے ہی گواہ کو عدالت کے دباؤ کے ذریعے کس طرح کمیٹی کے سامنے بلاسکتا ہے اور اس دباؤ کے تحت کمیٹی کے سامنے پیش ہونے والے مرون ویسٹ فیلڈ کی بات میں کتنی اہمیت ہوگی اور کتنا وزن ہوگا؟

دانش کنیریا کا کہنا ہے کہ انہیں ڈسپلنری کمیٹی کے غیرجانبدار اور صاف شفاف ہونے پر بھی شک ہے کیونکہ مرون ویسٹ فیلڈ کی غیرحاضری کو کبھی طبی اور کبھی کرسمس کا سبب بتایا گیا لیکن انہیں اور ان کے وکیل کو کبھی بھی اس بارے میں باضابطہ طور پر مطلع نہیں کیا گیا اور نہ ہی ویسٹ فیلڈ کی مبینہ میڈیکل رپورٹ کی کاپی دی گئی۔

دانش کنیریا نے کہا کہ انہیں اس بات کا دکھ ہے کہ ان کا کیریئر داؤ پر لگا دیا گیا لیکن وہ اپنی بے گناہی کے لیے ہرممکن کوشش کرتے رہیں گے کیونکہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے اگر وہ سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہوتے تو آج سرعام گھومنے کے بجائے منہ چھپاکر کہیں بیٹھے ہوتے۔