کنیریامقدمہ: ویسٹ فیلڈ گواہی پر مجبور

انگلش کرکٹ کاؤنٹی ایسکس کی جانب سے کھیلنے والے مرون ویسٹ فیلڈ اپنے سابقہ ساتھی کھلاڑی پاکستانی کرکٹر دانش کنیریا پر انگلش کرکٹ بورڈ کی جانب سے عائد کی گئی تاحیات پابندی کے مقدمے کی سماعت میں شرکت کریں گے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے ہائی کورٹ کے ذریعے مرون ویسٹ فیلڈ کو مجبور کیا ہے کہ وہ لندن میں ہونے والے اس مقدمے کی سماعت میں بطورِ گواہ پیش ہوں جہاں پاکستانی کرکٹ دانش کنیریا اپنے خلاف عائد کی گئی تاحیات پابندی کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔
اس سے پہلے مرون ویسٹ فیلڈ کا کہنا تھا کہ وہ اس مقدمے کی سماعت میں حصہ نہیں لینا چاہتے۔ اس مقدمے کی سماعت جمعرات تک جاری رہے گی۔
مرون ویسٹ فیلڈ پر پروفیشنل کرکٹ کھیلنے کی پانچ سالہ پابندی عائد ہے۔
خیال رہے کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ ڈسپلنیری پینل نے دانش کنیریا کو ایسکس کے ساتھی کھلاڑی مرون ویسٹ فیلڈ کو پیسوں کے عوض ایک اوور میں طے شدہ رنز دینے کے لیے دباؤ ڈالنے کا مجرم قرار دیا تھا۔ یہ واقعہ سنہ 2009 میں پیش آیا تھا۔
ویسٹ فیلڈ نے ایک بیان میں کہا، ’میں نے ای سی بی کو واضح کر دیا تھا کہ میں سماعت میں حصہ لینے یا جو میں نے جون 2012 میں شہادت دی تھی اس کے علاوہ مزید شہادت دینے میں دلچسپی نہیں رکھتا‘۔
پاکستان کے سابق سپنر دانش کنیریا کے خلاف عائد کی گئی تاحیات پابندی کو بین الاقوامی طور پر تسلیم کر لیا گیا جبکہ مرون ویسٹ فیلڈ پر پانچ سال کی پابندی عائد کی گئی تھی تاہم انہیں تین سال کے بعد کلب کرکٹ کے میچوں میں شرکت کی اجازت ہو گی۔
دانش کنیریا کے خلاف اپیل کی سماعت دسمبر میں ہونا تھی تاہم اسے اس لیے ملتوی کر دیا گیا کیونکہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ مرون ویسٹ فیلڈ کو مقدمے میں حصہ لینے پر قائل کرنے میں ناکام رہا تھا۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی جانب سے دانش کنیریا کے خلاف دائر کیے جانے والے مقدمے کا دارومدار مرون ویسٹ فیلڈ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے ثبوت اور ان کی گواہی پر ہے۔



