بھارت جنوبی افریقہ کے میچ سے چیمپیئنز ٹرافی شروع

بھارتی ٹیم
،تصویر کا کیپشنٹیم انڈیا نے چیمپیئنز ٹرافی سے قبل پریکٹس میچوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے

سپاٹ فکسنگ اور بدعنوانی کے الزامات کے سائے تلے بھارتی کرکٹ ٹیم چیمپیئنز ٹرافی کے پہلے مقابلے میں آج جنوبی افریقہ کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کر رہی ہے۔

آئی سی سی کے مطابق یہ چیمپیئنز ٹرافی کا آخری مقابلہ ہے اور اس کے بعد وہ اس قسم کا ٹورنامنٹ کرانے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

انگلینڈ اور ویلز میں چھ جون سے شروع ہوکر 18 دنوں تک چلنے والے اس ٹورنامنٹ میں دنیا کی آٹھ بہترین ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور ہر ٹیم کپ جیتنے کا مصمم ارادہ کر کے آئی ہے۔

گروپ اے میں انگلینڈ کے علاوہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور سری لنکا کی ٹیمیں شامل ہیں جب کہ گروپ بی میں بھارت، پاکستان، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں نبرد آزما ہوں گی۔

چیمپیئنز ٹرافی کا دوسرا میچ کل پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلا جائے گا۔ گروپ بی کو سخت ترین گروپ قرار دیا جا رہا ہے۔

ناک آؤٹ مقابلے میں ایک بھی شکست ٹیم کو ٹورنامنٹ کی دوڑ سے باہر کر سکتی ہے۔ لہذا ٹیم انڈیا اور جنوبی افریقہ دونوں اس مقابلے میں جیت حاصل کرنے کے لیے جان کی بازی لگا دیں گی۔

بھارت ایک روزہ کرکٹ میں دنیا کی سر فہرست ٹیم ہے اور پریکٹس میچوں میں بھارتی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس لیے چیمپئنز ٹرافی میں اس کی دعویداری کو مضبوط تسلیم کیا جا رہا ہے۔

لیکن دوسری طرف ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ٹیم پہلی بار وریندر سہواگ، گوتم گنبھیر، یوراج سنگھ، سچن تیندولکر اور ظہیر خان جیسے سینئر کھلاڑیوں کی غیر موجودگی میں کسی عالمی سطح کے ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہی ہے۔

بھارت نے پریکٹس میچوں میں جس طرح سے سری لنکا اور آسٹریلیا کو شکست دی ہے، اس سے ٹیم انڈیا کی بہتر کارکردگی کی امیدیں بڑھی ہیں۔

بھارت نے سری لنکا کے خلاف 334 رنز کے ہدف کا کامیابی سے پیچھا کیا، وہیں آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کو محض 65 رنز پر ڈھیر کر کے بڑی کامیابی حاصل کی۔

اس میچ میں ڈیل اسٹین کا کھیلنا مشکوک ہے
،تصویر کا کیپشناس میچ میں ڈیل اسٹین کا کھیلنا مشکوک ہے

ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کو نوجوان کھلاڑیوں سے خاصی امیدیں ہیں۔ انھوں نے مقابلے سے پہلے کہا: ’ٹیم کا ہر کھلاڑی پوری طرح فٹ ہے۔ تمام کھلاڑیوں نے آئی پی ایل سے پہلے اور آئی پی ایل کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹیم انڈیا پانچ بولروں کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ آسٹریلیا کے خلاف پریکٹس میچ میں شاندار گیند بازی کرنے والے امیش یادو اور ایشانت شرما کے علاوہ بھونیشور کمار تیز گیند بازی کی ذمے داری سنبھالیں گے۔

دوسری جانب جنوبی افریقی ٹیم قدرے کمزور نظر آرہی ہے کیونکہ دنیا کے نمبر ایک بولر ڈیل اسٹین فٹ نہیں ہیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ گریم اسمتھ اور ژاك کیلس بھی اس مقابلے میں حصہ نہیں لے رہے ہیں لیکن ہاشم آملا، اے بی ڈیویليئرز، ڈوپلیسي اور جے پی ڈومني جیسے کھلاڑی بھارت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

چیمپیئنز ٹرافی میں بھارت اور جنوبی افریقہ کی ٹیم کے درمیان اب تک دو بار مقابلہ ہوا ہے اور دونوں بار بازی ٹیم انڈیا کے ہاتھ رہی ہے۔