نئی جیت پرانے وعدے

سنوکر میں کھیل کے ساتھ ساتھ قسمت کا عمل دخل بھی بہت ہوتا ہے، محمد آصف
،تصویر کا کیپشنسنوکر میں کھیل کے ساتھ ساتھ قسمت کا عمل دخل بھی بہت ہوتا ہے، محمد آصف

پاکستان کے محمد آصف سنوکر کی عالمی امیچر چیمپئن شپ جیتنے کے بعد اب 6 ریڈ بال ایشین چیمپئن شپ کے فاتح بنے ہیں لیکن اس نئی جیت پر انہیں کسی انعام کی خوش فہمی نہیں کیونکہ عالمی اعزاز جیتنے پر انعامات کے جو وعدے ان سے کئے گئے تھے وہ بھی ابھی تک پورے نہیں کئے گئے۔

محمد آصف نے دوحا قطر میں ہونے والی دوسری 6 ریڈ بال ایشین سنوکر چیمپئن شپ کے فائنل میں ایران کے عامر سرکوش کو شکست دی تاہم ٹیم ایونٹ میں پاکستان کی پیش قدمی کوارٹرفائنل میں افغانستان نے روک دی۔

محمد آصف نے دوحا قطر سے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ امید پر دنیا قائم ہے اور انھیں اب بھی امید ہے کہ عالمی اعزاز جیتنے پر ان کے لیے نقد انعامات کے جو اعلانات تین صوبوں کے وزرائے اعلی نے کیے تھے وہ رقم انہیں مل جائے گی۔

خیال رہے کہ قومی سپورٹس پالیسی کے تحت عالمی چیمپئن بننے والے کھلاڑی کے لیے مختص ایک کروڑ روپے بھی ابھی تک محمد آصف کو نہیں مل پائے ہیں۔

محمد آصف کا کہنا ہے کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ اس سال پروفیشنل سرکٹ میں جا کر قسمت آزمائی کرتے لیکن اعلان کردہ انعامات نہ ملنے کے سبب اس خواہش کو وہ حقیقت کا روپ نہ دے سکے اس کے علاوہ انہیں کسی نے بھی اسپانسر نہیں کیا۔

محمد آصف نے کہا کہ انہیں 6 ریڈ بال چیمپئن شپ جیتنے کی خوشی اس لیے بھی ہے کہ وہ کراچی میں ایشین سنوکر چیمپئن شپ میں ہارگئے تھے جس کا انہیں بہت افسوس تھا۔

انہوں نے کہا کہ سنوکر میں کھیل کے ساتھ ساتھ قسمت کا عمل دخل بھی بہت ہوتا ہے۔

محمد آصف نے کہا کہ عام سنوکر کے مقابلے میں6 ریڈ بال فارمیٹ تیز اور قدرے مشکل ہے کیونکہ اس میں دفاعی انداز اختیار نہیں کیا جاسکتا اور اٹیکنگ گیم کھیلا جاتا ہے۔