’خواب پورا نہ ہو تو بہت تکلیف ہوتی ہے‘

امید تھی کہ یہ عالمی اعزاز ان کی قسمت بدل دے گا: محمد آصف
،تصویر کا کیپشنامید تھی کہ یہ عالمی اعزاز ان کی قسمت بدل دے گا: محمد آصف

پاکستان میں انتخابات کا ماحول گرم ہوچکا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے منشور سامنے لاچکی ہیں جن میں عام آدمی کی حالت بدلنے کے لیے ہمیشہ کی طرح سہانے سپنے دکھائی جارہے ہیں لیکن عالمی سنوکر چیمپئن محمد آصف ایسے کسی بھی دلفریب وعدے پر اب یقین کرنے کے لیے تیار نہیں۔

محمد آصف نے جب سنوکر کا عالمی اعزاز جیتا تھا تو سرکاری سطح پر انہیں نقد انعامات دینے کے اعلانات کیے گئے تھے۔ حکومتیں ختم ہوگئیں نئے الیکشن اور نئے وعدوں کا وقت آگیا لیکن محمد آصف کو تین سابق وزرائے اعلی کی جانب سے اعلان کردہ انعامی رقم نہ مل سکی۔

غور طلب بات یہ ہے کہ محمد آصف کو نہ صرف وزرائے اعلیٰ کی اعلان کردہ انعامی رقم نہیں مل سکی بلکہ وہ ایک کروڑ روپے بھی نہیں مل پائے جس کا اعلان سابق وفاقی وزیر میر ہزار بجارانی نے کیا تھا جو قومی سپورٹس پالیسی کے تحت ہر اولمپک گولڈ میڈلسٹ یا ورلڈ چیمپئن کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے محمد آصف نے کہا کہ جب کوئی آپ کو خواب دکھائے اور اسے پورا نہ کرے تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔

محمد آصف کا کہنا ہے کہ انہیں امید تھی کہ یہ عالمی اعزاز ان کی قسمت بدل دے گا اور اگر وعدے کے مطابق اعلان کردہ انعامی رقم انہیں وقت پر مل جاتی تو وہ پروفیشنل سنوکر سرکٹ میں قسمت آزمائی کا خواب پورا کر سکتے تھے لیکن اب ان کے پاس اس خواب کی تکمیل کے لیے رقم موجود نہیں۔

 انعامی رقم ملنے میں تاخیر کی وجہ سرکاری طریقہ کار ہے: محمد آصف
،تصویر کا کیپشن انعامی رقم ملنے میں تاخیر کی وجہ سرکاری طریقہ کار ہے: محمد آصف

محمد آصف کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں پروفیشنل سنوکر سیزن شروع ہونے والا ہے اور انہیں اگر سپانسر مل جاتا ہے تو وہ ضرور اس میں حصہ لیں گے اور اس سال عالمی امیچر سنوکر چیمپیئن شپ میں اپنے عالمی اعزاز کا دفاع نہیں کریں گے تاہم اگر انہیں پروفیشنل سرکٹ میں جانے کا موقع نہ مل سکا تو پھر عالمی ایونٹ کی تیاری کریں گے۔

عالمی چیمپیئن کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنے شہر فیصل آْْْْباد میں سنوکر اکیڈمی قائم کرنا چاہتے تھے لیکن یہ خواب بھی اسی وقت حقیقت کا روپ دھارے گا جب ان کے ہاتھ میں پیسہ آئے گا۔

محمد آصف کہتے ہیں کہ ایک کروڑ روپے کی انعامی رقم ملنے میں تاخیر کی وجہ سرکاری طریقہ کار ہے جو مختلف مراحل سے گزر کر مکمل ہوتا ہے۔ انہیں بار بار یقین دہانی کرائی جارہی ہے کہ وہ رقم جلد مل جائے گی۔

محمد آصف کے خیال میں سنوکر کی حالت بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ وہ کھیل ہے جس میں پاکستان دو بار عالمی چیمپئن بنا ہے لیکن سپانسرشپ نہ ہونے کے سبب کھلاڑی مالی مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔

ان کے مطابق وہ خود عالمی چیمپئن ہیں لیکن ان کے پاس بھی کوئی ملازمت نہیں ہے۔