
آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں حصہ لینے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے منیجر نوید اکرم چیمہ نے اپنے کھلاڑیوں کو میڈیا سے دور رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ٹیم کی پریکٹس کے بعد کسی بھی کرکٹر کو میڈیا کے سامنے لانے سے انکار کر دیا ہے۔
پاکستانی ٹیم کے منیجر کا یہ رویہ اس لیے ناقابل فہم ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں یہ پرانی روایت رہی ہے کہ ٹیم کی پریکٹس کے بعد ایک کھلاڑی ضرور میڈیا کے سامنے آ کر بات کرتا ہے۔
ان کے اسی رویے کے سبب صحافی پاکستان اور بھارت کے وارم میچ میں انتظار کرتے رہ گئے لیکن کوئی بھی کھلاڑی پریس کانفرنس میں نہ آیا۔
اسی طرح انگلینڈ کے خلاف کولمبو کےوارم میچ کے بعد بھی جب صحافیوں نے منیجر سے کسی بھی کرکٹر سے انٹرویو کے بارے میں درخواست کی تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ کینڈی میں جا کر بات ہوگی۔
نوید اکرم نے کینڈی میں ٹیم کی پریکٹس کے موقع پر بھی صحافیوں کی کسی بھی کھلاڑی سے بات کرانے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ آئی سی سی کے قواعد وضوابط پر عمل کررہے ہیں۔
آئی سی سی کے ترجمان نے بی بی سی کے استفسار پر بتایا کہ میچ سے قبل اور میچ کے بعد پریس کانفرنس لازمی ہیں تاہم پریکٹس سیشن کے موقع پر کرکٹرز اگر میڈیا سے بات کرلیتے ہیں تو اس سے آئی سی سی ایونٹ کو مثبت تشہیر ملتی ہے اور آئی سی سی اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں صحافیوں کی کرکٹرز تک رسائی نہ ہونے اور کوریج کے سلسلے میں مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے اپنے میڈیا منیجر ندیم سرور کو سری لنکا بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان واحد ٹیم ہے جو غیرملکی دوروں پر پیشہ ورانہ انداز میں ذرائع ابلاغ سے رابطہ رکھنے کے لیے اپنا کوئی میڈیا منیجر نہیں بھیجتی بلکہ یہ ذمہ داری بھی ٹیم کے منیجر کو سونپ دی جاتی ہے اور یہ اس کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ صحافیوں سے کس طرح کا رویہ روا رکھے۔
آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کے سوا ہر ٹیم باقاعدہ میڈیا منیجرز کے ساتھ آئی ہے جو صحافیوں اور کرکٹرز کے درمیان رابطے کا کام کررہے ہیں۔
گزشتہ سال ورلڈ کپ کے موقع پر ٹیم کے منیجر انتخاب عالم نے میڈیا کے ساتھ انتہائی خوشگوار تعلقات رکھتے ہوئے کرکٹرز تک رسائی کا موقع فراہم کیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ خود کرکٹر تھے اور انہیں میڈیا کی کوریج کی اہمیت کا بخوبی اندازہ تھا۔






























