
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے سری لنکا آئے ہوئے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے درمیان یہ گفتگو جاری ہے کہ سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ پاکستانی کرکٹرز سلمان بٹ اور محمد عامر ٹی وی چینلز پر ماہرانہ تبصرے کیسے کر رہے ہیں؟۔
اس گفتگو میں تمام زور اس بات پر رہا ہے کہ یہ ٹی وی چینلز اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے ان کرکٹرز کو سامنے لائے ہیں ظاہر ہے نیک نامی ہی میں نہیں بدنامی میں بھی یہ کرکٹرز شہ سرخیوں میں رہے ہیں اور بقول شخصے بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔
آئی سی سی پہلے ہی اس معاملے پر اپنا ردعمل ظاہر کرچکی ہے اور اس کا بھی یہی کہنا ہے کہ کہ ان نجی ٹی وی چینلز کو ان کرکٹرز کے ساتھ معاہدے کرتے وقت یہ ضرور سوچنا چاہیے تھا کہ یہ کرکٹرز برطانیہ کی جیلوں میں سزا کاٹ کر آئے ہیں اور ابھی بھی آئی سی سی کی جانب سے پابندیوں کی زد میں ہیں۔
سلمان بٹ گزشتہ سال جب سپاٹ فکسنگ کے الزامات کا سامنا کر رہے تھے تو وہ ایک ٹی وی چینل پر مبصرکی حیثیت سے سامنے آئے تھے اور اس وقت بھی آئی سی سی نے اس پر ناراضی ظاہر کی تھی۔
اس تمام معاملے پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ سلمان بٹ نے ایسا کر کے آئی سی سی کے مقابلے پر محاذ کھول دیا ہے اور وہ یہ بھول گئے ہیں کہ ان پر آئی سی سی کی دس سال کی پابندی ہے جو ان کے اچھے رویے پر پانچ سال میں ختم ہو جاتی لیکن اب شاید ایسا نہ ہوسکے۔ اسی طرح محمد عامر نے بھی اپنی واپسی کو آسان بنانے کے بجائے مشکل بنا دیا ہے۔
ماضی میں سابق بھارتی کپتان محمد اظہر الدین نے بھی ایک بھارتی ٹی وی چینل سے ایشیا کپ کے لیے ایسا ہی معاہدہ کیا تھا لیکن آئی سی سی کے اعتراض کے نتیجے میں ایشین کرکٹ کونسل نے انہیں ماہرانہ تبصرے سے روک کر ان کا میچ پاس منسوخ کر دیا تھا۔
پاکستانی ٹیم اتوار کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیل رہی ہے۔
یہ وہی نیوزی لینڈ ہے جس نے اسی پالیکلے اسٹیڈیم میں گزشتہ سال ورلڈ کپ میں راس ٹیلر کی شاندار سنچری کی بدولت پاکستان کو شکست دی تھی لیکن راس ٹیلر کو آج بھی کامران اکمل کی شکل میں ایک مہربان یاد ہے جس نے شعیب اختر کی گیند پر کیچ گرا کر انہیں سنچری کا موقع فراہم کیا تھا۔
اب یہ دونوں کرکٹرز ایک بار پھر ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے اور کامران اکمل کسی صورت میں نہیں چاہیں گے کہ وہ بھیانک گھڑی دوبارہ سامنے آئے۔






























