یہ ایوارڈ تمہارے لیے ہی بنا ہے!

فائل فوٹو، علیم ڈار
،تصویر کا کیپشنعلیم ڈار اب تک ستاون ٹیسٹ اور ایک سو اکیس ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کرچکے ہیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ہر سال بہترین امپائر کا آئی سی سی ایوارڈ سائمن ٹافل کو ملنے پر علیم ڈار ان سے مذاق کیا کرتے تھے ’سائمن ! یہ ایوارڈ لگتا ہے تمہارے لیے ہی بنا ہے ہم دوسرے امپائر تو بس حاضری کے لیے تقریب میں آجاتے ہیں‘۔ تاہم اس مرتبہ علیم ڈار یہ ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں علیم ڈار یہ ایوارڈ ملنے پر اپنی خوشی کا اظہار اس طرح کرتے ہیں’مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ سائمن ٹافل کیسے امپائر ہیں اور اسے بھی معلوم ہے کہ میں کیسی امپائرنگ کرتا ہوں۔ میرے لیے یہی بات باعث اطمینان تھی کہ میں گزشتہ پانچ سال سے بہترین امپائر کے ایوارڈ کے لیے نامزد ہو رہا تھا۔‘

’اگرآپ دنیا کے پہلے دو تین امپائرز میں شامل ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی امپائرنگ کا معیار بہت ہی اچھا ہے اور اگر آپ کو دنیا کا بہترین امپائر قرار دیا جائے تو اس سے بڑی خوشی اور کیا ہوسکتی ہے۔‘

کیا اس بار یقین تھا کہ یہ ایوارڈ آپ کو ملے گا یا اس بار بھی یہ ٹافل کے حصے میں آئے گا؟ اس سوال پر علیم ڈار کہتے ہیں’ اس بار بھی میں پرسکون تھا تاہم اس مرتبہ سری لنکن اور پاکستانی کھلاڑی مجھ سے کہہ رہے تھے کہ یہ ایوارڈ اب آپ کا ہے اور نہ جانے کیوں سب مجھے پیشگی مبارکباد دے رہے تھے۔‘

علیم ڈار اب تک ستاون ٹیسٹ اور ایک سو اکیس ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کرچکے ہیں۔ سب سے زیادہ ایک سو اٹھائیس ٹیسٹ میچوں میں امپائرنگ کا ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے اسٹیو بکنر کا ہے اور دو سو ایک ون ڈے میں امپائرنگ کا ریکارڈ جنوبی افریقہ کے روڈی کرٹزن کا ہے۔

کیا ریکارڈ پر ان کی نظر ہے؟ علیم ڈار ریکارڈ سے بڑھ کر اپنی فیملی کو زیادہ فوقیت دیتے ہیں۔’میں اب بھی یہ سمجھتا ہوں اس وقت میرے بچوں کو میری ضرورت ہے کیونکہ سال میں چھ ماہ گھر سے دور رہتا ہوں اور اگر میں نے کسی مرحلے پر یہ محسوس کیا کہ میری فیملی کو میری بہت زیادہ ضرورت ہے تو میں اسی وقت امپائرنگ چھوڑدوں گا۔‘

علیم ڈار اپنا یہ ایوارڈ مرحوم والد کے نام کرتے ہیں۔’ہر سال جب میں ایوارڈ کے لیے نامزد ہوتا تو میرے والد مجھ سے کہتے کہ اس بار یہ تمہیں ملے گا اور اب جب یہ ایوارڈ مجھے ملا ہے وہ پانچ ماہ ہوئے انتقال کرچکے ہیں۔میں یہ ایوارڈ ان کے اور میرے کریئر میں اہم کردار ادا کرنے والے اظہر زیدی کے نام کرتاہوں جنہوں نے قدم قدم پر میری رہنمائی کی ہے۔‘

علیم ڈار اپنی کامیابی کا کریڈٹ اپنی اہلیہ کو دیتے ہیں۔’جب تک آپ کو گھر سے سکون نہ ہو آپ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری صحیح طور پر نہیں نبھا سکتے۔ میری بیگم نے مجھے ہر فکر پریشانی سے دور رکھا اور گھر کے معاملات خود احسن طریقے سے نبھائے ہیں یہاں تک کہ جب میں ٹور پر ہوتا ہوں تو اگر کوئی مسئلہ درپیش بھی ہوتا ہے تو وہ مجھے نہیں بتاتیں کہ کہیں اس سے میری امپائرنگ میں خلل نہ پڑے۔‘

علیم ڈار امپائرنگ کا معیار بہتر کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کے حق میں ہیں ۔اس بارے میں وہ کہتے ہیں ’میں اس پر برا نہیں مناتا، ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے میچ میں ریفرل سسٹم کے تحت میرے پانچ فیصلے چیلنج کیے گئے لیکن میرا ہر فیصلہ درست نکلا۔‘

ریفرل سسٹم کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ اس سے کافی وقت ضائع ہوگا لیکن میرے خیا ل میں ایسا نہیں ہوگا البتہ اس کے نافذ ہونے سے بیٹسمینوں پر دباؤ بڑھ جائے گا۔‘

فیلڈ میں کونسا کپتان سب سے آسان لگا اور کس نے سب سے زیادہ پریشان کیا؟ اس سوال پر علیم ڈار کا کہنا ہے کہ ’انضمام الحق اس لحاظ سے آسان لگے کہ انہوں نے کبھی کسی فیصلے پر ناراضگی ظاہر نہیں کی باقی سب کپتان ایک جیسے ہیں جو ہر فیصلے کی وضاحت چاہتے ہیں لیکن سب ہی میری بے پناہ عزت بھی کرتے ہیں، مثلاً رکی پونٹنگ کو میں نے متعدد بار ایل بی ڈبلیو دیا لیکن انہوں نے کبھی بھی اس کا برا نہیں منایا بلکہ اچھے فیصلوں کی تعریف ہی کی ہے۔‘