ثقلین کا ’دوسرا‘ دوسروں کے لئے

ثقلین مشتاق
،تصویر کا کیپشنثقلین مشتاق نے دنیائے کرکٹ میں ’دوسرا‘ گیند متعارف کروائی
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, شکور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کولمبو

پاکستان کی کئی اہم فتوحات میں کلیدی کردار ادا کرنے والے آف سپنرثقلین مشتاق کے وسیع تجربے سے اب نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم استفادہ کررہی ہے۔

ثقلین مشتاق نیوزی لینڈ کی ٹیم کے ساتھ اس وقت سری لنکا میں ہیں اور اس کے بیٹسمینوں اور بولرز کو سپِن بولنگ کے گر سکھانے میں مصروف ہیں۔

ثقلین مشتاق نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ورلڈ ٹونٹی ٹونٹی کے دوران نیوزی لینڈ کرکٹ نے ان کی خدمات حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی اور اب وہ تقریباً ایک ہفتہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کے ساتھ رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ڈینیئل ویٹوری بلاشبہ عصرحاضر کے بہترین لیفٹ آرم سپِنر ہیں جبکہ انہوں نے جیتن پٹیل کے ساتھ بھی سیشن کیا ہے۔ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ کے بیٹسمینوں سے بھی سپِن بولنگ کو درست طریقے سے کھیلنے کے بارے میں مفید گفتگو رہی ہے۔

’آپ کی موجودگی کا فائدہ نیوزی لینڈ کے بیٹسمینوں کو زیادہ پہنچے گا یا بولرز کو؟‘ ثقلین مشتاق کا جواب تھا کہ یہ ایک تیر سے دو شکار کرنے والا معاملہ ہے یعنی دونوں کو ان کی موجودگی سے فائدہ پہنچے گا۔

ثقلین جنہوں نے پانچ سال قبل آخری ٹیسٹ بھارت کے خلاف کھیلا تھا کہتے ہیں کہ آج وہ جو کچھ بھی ہیں پاکستان کی وجہ سے ہیں، لیکن ابھی تک پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کے لئے ان سے رابطہ نہیں کیا۔ تاہم جب بھی ان کی خدمات حاصل کرنے کی بات ہوگی وہ اس میں خوشی محسوس کریں گے۔

دو سو آٹھ ٹیسٹ اور دو سو اٹھاسی ون ڈے وکٹیں حاصل کرنے والے ثقلین مشتاق کا کہنا ہےکہ انگلینڈ کی ٹیم میں لیگ سپِنر مشتاق احمد کی موجودگی اور اب نیوزی لینڈ کی ٹیم سے ان کی وابستگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ ٹیمیں سپِن بولنگ کو کتنی اہمیت دیتی ہیں کیونکہ سپِن بولنگ کسی بھی ٹیم کی جیت میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

ثقلین نے کہا کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ’دوسرا‘ متعارف کرانے والے پہلے بولر ہیں اور اسی کے ذریعے انہوں نے بڑی کامیابیاں سمیٹیں۔ چونکہ یہ قدرتی تھا لہذا ان کے بولنگ ایکشن پر کبھی اعتراض نہیں ہوا۔ لیکن چونکہ دوسرے بولرز نے اسے اپنایا لہذا ان کے ایکشن، ان کی کلائی، انگلیوں سے گیند پھینکنے میں یا ذہن میں کہیں نہ کہیں کچھ کمی رہ گئی جس کی وجہ سے ان کے بولنگ ایکشن پر اعتراضات سامنے آئے۔ تاہم وہ ان اعتراضات کو غیراہم سمجھتے ہیں۔

ثقلین مشتاق نے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ مرلی یا کسی بھی دوسرے بولر کے بولنگ ایکشن پر اعتراض اس وقت کیا گیا جب وہ طویل عرصہ کرکٹ کھیل چکے تھے۔ جب انہوں نے کرکٹ شروع کی تھی تو اس وقت یہ اعتراضات کیوں نہیں کیے گئے، اس وقت انہیں یہ کیوں نظر نہیں آیا؟

ثقلین مشتاق نے کہا کہ سپِن بولنگ کا مستقبل تابناک ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ اچھے سپِنرز موجود ہوں تاکہ آنے والوں کو حوصلہ ملے۔

انہوں نے کہا کہ ایک عظیم بولر کے جانے کے فوراً بعد دوسرا عظیم بولر سامنے نہیں آجاتا بلکہ اس میں وقت لگتا ہے، جیسا کہ آُسٹریلیا کے ساتھ اس وقت صورتحال درپیش ہے کہ دوسرا شین وارن اسے آسانی سے نہیں ملے گا۔

ثقلین نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ پاکستانی کرکٹ کے کرتا دھرتا لیگ سپِنر دانش کنیریا کو ماضی کا حصہ بنانے پر تلے بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کا بہترین سپِنر ہے تو پھر اسے ٹیم سے باہر نہیں ہونا چاہیے اور اگر اس کی فیلڈنگ اور فٹنس کا مسئلہ درپیش ہے تو اسے دور کرنا سپورٹنگ اور کوچنگ اسٹاف کا کام ہے۔