پاکستان بمقابلہ انڈیا: انڈین ٹی وی اشتہارات جن میں ’پاکستان کے ہاتھوں شکست بھلائے نہیں بھولتی‘

،تصویر کا ذریعہYouTube grab/sportstar
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ کا میچ ہو اور میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس کی دھوم نہ ہو یہ ناممکن ہے۔
اگرچہ دونوں ٹیموں کے مابین مقابلوں کے ریکارڈ میں مجموعی طور پر پاکستان کا پلڑا بھاری رہا ہے لیکن ورلڈ کپ ایک ایسا ایونٹ رہا ہے، جس میں انڈیا کی جیت کا تناسب زیادہ ہے۔
بہرحال گذشتہ سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی انڈیا کے خلاف دس وکٹوں سے جیت نے پاکستان کے کرکٹ فینز کے لیے گویا کایا ہی پلٹ دی۔
اس کے بعد بھی دونوں ٹیموں کے درمیان ایشیا کپ کے دو مقابلے ہوئے جن میں سے ایک میچ میں انڈیا کو کامیابی ملی تو دوسرے میں پاکستان نے فتح حاصل کی۔
آج پاکستان اور انڈیا کے درمیان آسٹریلیا کے میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں میچ ہے اور پورے برصغیر کے ساتھ دنیا بھر میں پھیلے کرکٹ شائقین اس عظیم ترین مقابلے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
پاکستان اور انڈیا کرکٹ مقابلوں میں آپ کو ’موقع موقع‘ والے اشتہار اور میمز تو یقیناً یاد ہوں گے اور اب جب آسٹریلیا میں کرکٹ ورلڈ کپ میں دونوں ٹیمیں ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں ایسے میں انڈین ٹی وی چینلز پر دو اشتہار بار بار دکھائے جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہYouTube grab/sportstar
یہ اشتہارات یوٹیوب پر بھی دستیاب ہیں۔
ان میں سے ایک اشتہار میں گذشتہ برس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انڈین ٹیم کی پاکستان کے ہاتھوں دس وکٹوں سے شکست کا ذکر کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک بچہ ٹیم انڈیا کو پیغام دیتے ہوئے کہتا ہے: ’ہیلو ٹیم انڈیا! میں شرما جی کا بیٹا۔۔۔ اور یہ ہے دردنا پور۔ ہمارے پاس نام میں درد ہے لائف میں نہیں۔‘
اس کے بعد اشتہار میں ایسے کئی مناظر دکھائے جاتے ہیں جن میں پہلوان نما افراد کو سخت جسمانی تکلیف پہنچنے پر بھی درد نہیں ہوتا اور پھر انڈیا کی فتح کا منظر دکھایا گیا ہے جبکہ بچہ کہتا ہے کہ ’ہم اپنی جیت کا جشن پوری جان سے مناتے ہیں۔‘
اس کے بعد منظر میں بہت سے پہلوان ایک جگہ بیٹھے زارو قطار رو رہے ہیں اور پیچھے ٹی وی پر بابر اعظم کا جشن اور انڈین ٹیم افسردہ ہو کر میدان سے نکلتی نظر آتی ہے جبکہ پس منظر میں کمنٹیٹر کی آواز سنائی دیتی ہے کہ ’پاکستان نے تاریخ رقم کر دی۔۔۔‘

،تصویر کا ذریعہYouTube grab/sportstar
اس کے بعد ویڈیو میں نظر آنے والا بچہ ٹیم انڈیا کو مخاطب ہو کر کہتا ہے ’دل سے درخواست ہے، اس بار جیت کر بھلا دو پچھلی ہار اور ختم کرو انتظار‘ جبکہ آخر میں ’دردناپور‘ قصبے کے لوگ انڈین ٹیم کا جشن مناتے نظر آتے ہیں۔
اور پھر انڈیا اور پاکستان کے میچ کی تاریخ 23 اکتوبر کے ساتھ ہیش ٹیگ ’سب سے بڑا ٹاکرا‘ لکھا نظر آتا ہے۔
’زمانے بیت گئے جیت کے نظارے نہیں ملے‘
اسی طرح سے ایک اور ٹی وی اشتہار بھی شائقین کو ہار جیت کے خمار میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ جس کی شروعات ریگستان میں ایک بزرگ شخص سے ہوتی ہے جو کسی چیز کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے اور پھر وہ اپنے بیگ سے ایک شیشہ نما تراشہ نکالتا ہے جیسے کوئی سراغ ڈھونڈ رہا ہو اور پس منظر سے آواز آتی ہے کہ ’بے صبری کسے کہتے ہیں یہ کوئی ہم سے پوچھے۔‘
پھر اسی صحرا میں ایک ٹی وی رکھا نظر آتا ہے جس پر کچھ لوگ میچ دیکھ رہے ہیں اور پھر ایک راویتی راجستھانی بوڑھی ماں کا مسکراتا چہرہ ابھرتا ہے اور ساتھ ہی بیک گراؤنڈ سے ایک آواز کہ ’زمانے بیت گئے، جیت کے وہ نظارے نہیں ملے‘ اور پھر زمین پر کسی بادل کا سایہ اتر آتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہYouTube grab/sportstar
پھر منظر بدلتا ہے اور ایک ماں اپنے بچے کو آسمان میں ستارے دکھا رہی ہے جبکہ بیک گراؤنڈ سے آواز ابھرتی ہے ’آنکھیں ترس گئیں، آسمان میں نئے ستارے نہیں ملے، ایک اشارے سے جھوم گئے تھے، پر (لیکن) 15 سال ہو گئے یار، وہ اشارے بھی نہیں ملے، دن مہینے، موسم، بدل گئے ہیں کئی سال، اب لے آؤ یار، بہت ہوا انتظار۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہYouTube grab/sportstar
اس سب کے درمیان بھیڑ میں ایک لڑکے کو دکھایا جاتا ہے جس کی جرسی کے پشت پر 18 لکھا ہے اور پھر معروف انڈین کرکٹر وراٹ کوہلی نظر آتے ہیں جو کہ ایک گیراج میں کھڑے ایک پرانے ٹرک کو لوگوں کے ساتھ مل کر دھوتے ہیں، اس کے کل پرزے درست کرتے ہیں، انجن سٹارٹ کرتے ہیں اور اس ٹرک پر لکھا جاتا ہے ’وجے رتھ‘ یعنی ’فتح کا رتھ۔‘
یہ اشتہار اگرچہ انڈین ناظرین کو ورلڈکپ کے میچوں کے لیے راغب کرنے کی کوشش ہیں لیکن اس میں یہ بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ انڈیا کو ورلڈ کپ جیتے بہت عرصہ ہو گیا اور یہ کہ ’پاکستان کے ہاتھوں شکست بھلائے نہیں بھولتی‘ ہے۔
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ آج انڈیا میں دیوالی کا تہوار منایا جا رہا ہے جس میں ملک بھر میں چراغاں اور آتشبازی کا ایک شور بپا رہتا ہے لیکن آتشبازی تو انڈیا پاکستان کے میچ کے بعد بھی ہوتی ہے اب یہ چند گھنٹوں میں طے ہو جائے گا کہ اصل آتشبازی کہاں ہو گی۔











