برٹش انڈین ہاکی ٹیم کے وہ کھلاڑی جن کی واپسی کے لیے نہرو نے پاکستان کے وزیر اعظم کو خط لکھا

،تصویر کا ذریعہBani Singh
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
وہ لمحات غیر منقسم انڈیا کی ہاکی ٹیم کے چند کھلاڑیوں کے لیے ناقابل فراموش تھے جب وہ ایک دوسرے کو بوجھل دل اور پرنم آنکھوں کے ساتھ الوداع کہہ رہے تھے اور انھیں اس بات کا اچھی طرح اندازہ تھا کہ شاید اب وہ دوبارہ مل نہ پائیں گے۔
برصغیر کی تقسیم نے ہاکی کو بھی منقسم کر دیا تھا۔
علی اقتدار شاہ دارا نے سنہ 1936 کے برلن اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی برٹش انڈیین ٹیم کی نمائندگی کی تھی لیکن پاکستان بننے پر وہ نئے وطن کی طرف لوٹ رہے تھے جہاں وہ اپنا کیریئر نئے انداز سے شروع کرنا چاہتے تھے۔
اختر حسین اور لطیف الرحمن پاکستان بننے کے بعد بھی انڈیا میں رہ گئے تھے۔ انھوں نے سنہ 1948 کے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کی نمائندگی کی تھی لیکن اس کے بعد انھوں نے بھی دوستوں سے الوداع لی اور سرحد پار کر لی۔
دو ملکوں سے کھیلنے والے تین اولمپیئنز
پہلے ان تین کھلاڑیوں کا تفصیلی ذکر ہو جائے جنھوں نے پہلے غیر منقسم انڈیا اور پھر پاکستان کی اولمپکس مقابلوں میں نہ صرف نمائندگی کی بلکہ میڈل بھی جیتے۔
کرنل علی اقتدار شاہ دارا پاکستان کی ہاکی تاریخ کے پہلے کپتان تھے جنھوں نے سنہ 1948 کے لندن اولمپکس میں حصہ لینے والی ٹیم کی قیادت کی تھی۔ پاکستان بننے سے قبل انھوں نے برٹش انڈیا کی طرف سے 1936 کے برلن اولمپکس میں حصہ لیا تھا۔ فائنل میں مغربی جرمنی کے خلاف ہونے والے آٹھ میں سے دو گول ان کے تھے۔
کرنل دارا نے اپنے ایک ریڈیو انٹرویو میں یہ دلچسپ بات بتائی تھی کہ جب جرمنی کے خلاف ہم نے چھ گول کر دیے تو یہ فائنل دیکھنے والوں میں اس وقت کے چانسلر ایڈولف ہٹلر بھی شامل تھے جو یہ کہہ کر اٹھ کر چلے گئے کہ ’جرمن ٹیم میں انڈین فارورڈز کے جادوئی کھیل کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہNeelam Husain
کرنل دارا ریٹائرمنٹ کے بعد انتظامی معاملات کی طرف آ گئے تھے۔ وہ سنہ 1960 کا روم اولمپکس جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے مینجر تھے۔ وہ پہلے پاکستانی ہیں جو انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے نائب صدر منتخب ہوئے اور اس حیثیت میں ہاکی کے فروغ اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرنل دارا کی صاحبزادی نیلم حسین بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’وہ جیسے سپورٹس کے لیے ہی پیدا ہوئے تھے۔ نہ صرف ہاکی بلکہ دیگر کھیلوں میں بھی وہ بہت زیادہ دلچسپی لیا کرتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے ٹینس بھی کھیلی اور خواجہ افتخار کے ساتھ پاکستان کے قومی ڈبلز چیمپیئن بھی رہے۔‘
سابق اولمپیئن عبدالوحید خان بتاتے ہیں کہ ’کرنل دارا ہاکی پر گہری نظر رکھنے والے شخص تھے۔ وہ روم اولمپکس جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے منیجر تھے اور کیمپ کمانڈنٹ تھے۔ انھوں نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افـزائی کے لیے کیمپ کے دوران کھلاڑیوں کے کمروں اور ڈائننگ ہال کی دیواروں پر سٹیکرز لگوا دیے تھے جس پر لکھا تھا ’وکٹری ایٹ روم۔‘
نیلم حسین کہتی ہیں کہ ʹجب پاکستان نے روم اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا تو میرے والد سے زیادہ خوش میں نے کسی کو نہیں دیکھا تھا۔ یہ ان کی دیرینہ خواہش تھی کپہ پاکستان اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتے۔‘
کرنل علی اقتدار شاہ دارا کا انتقال 15 جنوری 1981 کو ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہNeelam Husain
بھوپال کے دو بڑے نام
اختر حسین اور لطیف الرحمن کے کریئر پر نظر ڈالیں تو یہ دونوں اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے سنہ 1948 میں لندن اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔
اختر حسین لیفٹ فل بیک تھے اور لطیف الرحمن لیفٹ آؤٹ کی پوزیشن پر کھیلتے تھے۔
لطیف الرحمن نے پاکستان آنے کے بعد سنہ 1952 کے ہیلسنکی اور 1956 کے میلبورن اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ میلبورن میں پاکستان نے چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ وہ سنہ 1958 میں ایشین گیمز جیتنے والی پاکستانی ٹیم میں بھی شامل تھے۔
لطیف الرحمن کو جن لوگوں نے کھیلتے دیکھا وہ کہتے ہیں کہ ان سے تیز رفتار لیفٹ آؤٹ کوئی بھی نہ تھا۔
عبدالوحید خان کہتے ہیں کہ ’لطیف الرحمن کی رفتار بلا کی تھی۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کراس مارتے وقت مڑتے نہیں تھے بلکہ صرف کمر کے خم کے ساتھ گیند کو ہٹ مارتے تھے۔ میں ان کے ساتھ کھیلا ہوں۔ وہ جس جگہ کا اشارہ کرتے تھے ان کا کراس اسی جگہ آتا تھا اور سینٹر فاروڈ کو صرف سٹک دکھا کر گیند کو گول میں ڈالنا ہوتا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہShabih ur Rehman
لطیف الرحمن کے بیٹے شبیہہ الرحمن بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ʹمیرے والد جب بھی ہم سے ہاکی پر بات کرتے تو یہ ضرور کہتے تھے کہ دھیان چند میرے استاد تھے جبکہ وہ کے ڈی سنگھ بابو کا ذکر بڑے احترام سے کیا کرتے تھے۔ پاکستان آنے کے بعد ان کا سابق اولمپیئن بلبیر سنگھ سے رابطہ رہا۔ انھوں نے انڈین کھلاڑیوں ظفر اقبال اور محمد شاہد کو بھی کافی سکھایا تھا۔ میرے والد کو آخری وقت میں اس بات کا افسوس رہا کہ انھیں وہ مقام نہ مل سکا جو ملنا چاہیے تھا۔‘
لطیف الرحمن کا انتقال 27 فروری 1987 کو ہوا تھا۔
اختر حسین بھی انڈیا کی اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے سنہ 1948 میں لندن اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ سنہ 1956 کے میلبورن اولمپکس میں وہ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے چاندی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
وہ پاکستان کی اس ٹیم کے کوچ تھے جس نے سنہ 1978 میں بیونس آئرس میں تیسرا ورلڈ کپ جیتا تھا۔ اس ٹیم کے مینیجر عبدالوحید خان تھے۔
عبدالوحید خان کے خیال میں لطیف الرحمن اور اختر حسین سادہ طبعیت کے انسان تھے جنھوں نے اپنی زندگیاں ہاکی کے لیے وقف کر دی تھیں۔
اختر حسین 9 نومبر 1987 کو انتقال کر گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہZulqarnain
’پاکستان آ کر غلطی کی‘
اختر حسین کے بیٹے ذوالقرنین نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کے والد نے علی گڑھ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا تھا۔
’وہ وہاں لیکچرار بھی رہے تھے۔ وہ اندور کے کرسچین کالج سے پڑھے تھے۔ سادہ طبعیت کے انسان تھے۔ وہ کرکٹ اور بیڈمنٹن کے بھی زبردست کھلاڑی تھے۔ ان کا نام انڈیا کی کرکٹ ٹیم کے کیمپ میں بھی آ گیا تھا اور سابق ٹیسٹ کرکٹر مشتاق علی نے والد صاحب کو کہا تھا کہ تم ہاکی چھوڑو اور کرکٹ میں آجاؤ لیکن انھوں نے ہاکی کو ترجیح دی تھی۔ انھوں نے بیڈمنٹن کے بین الاقوامی مقابلوں میں بھی حصہ لیا تھا۔‘
ذوالقرنین بتاتے ہیں کہ ’میرے والد کو ایک مرتبہ اٹلی میں کوچنگ اور فیملی سمیت مستقل رہائش کی آفر ہوئی تھی لیکن انھوں نے کہا تھا کہ میں پاکستان کی خدمت کرنا چاہتا ہوں اپنے ملک کو نہیں چھوڑ سکتا لیکن پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب انھوں نے افسوسناک لہجے میں کہا تھا کہ انھوں نے اپنی زندگی میں تین بڑی غلطیاں کیں۔‘
’پہلی غلطی پاکستان آ کر کی۔ دوسری غلطی پنجاب چھوڑ کر کراچی آنے کی تھی اور تیسری اٹلی میں کوچنگ اور مکمل سکونت کی پیشکش قبول نہ کر کے کی۔ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد خاموش رہتے تھے اور لوگوں کی منافقت پر انھیں بہت دکھ ہوتا تھا۔‘
اختر حسین پولیس سے وابستہ تھے اور ڈی ایس پی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ وہ فضل محمود اور منیر ڈار ایک ساتھ پولیس میں بھرتی ہوئے تھے۔
کشور کمار اور اختر حسین کی دوستی
اختر حسین کے بیٹے ذوالقرنین بتاتے ہیں کہ ان کے والد اور مشہور سنگر کشور کمار اندور کے کرسچین کالج میں ایک ساتھ پڑھتے تھے اور بہت گہرے دوست تھے۔
’میں جب انڈیا گیا تو میں نے کالج کے ہاسٹل میں یہ لکھا ہوا دیکھا ’اختر اور کشور ہاؤس۔‘ یہ دونوں کالج کے دنوں میں روم میٹ تھے۔ پاکستان بننے کے بعد دونوں میں کبھی کبھی فون پر بات ہو جایا کرتی تھی۔ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اچھے نہیں تھے اور مواصلات کا نظام بھی اتنا اچھا نہیں تھا لیکن کشور کمار میرے والد سے بہت محبت رکھتے تھے۔‘
’میرے والد کو کشور کمار کی موت کا بہت افسوس ہوا تھا اور اس کے صرف ایک ماہ بعد وہ بھی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ جب وہ ہسپتال میں زیر علاج تھے تو انھوں نے ڈاکٹر کو کہا تھا کہ میرا بہت ہی پیارا دوست دنیا سے چلا گیا ہے مجھے اب زندگی میں مزا نہیں آرہا۔‘
اختر حسین اور لطیف الرحمن جب پاکستان آ گئے تھے تو انڈیا کے وزیراعظم نہرو نے پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی سے ایک خط کے ذریعے درخواست کی تھی کہ ان دونوں کھلاڑیوں کو واپس لوٹا دیں۔

،تصویر کا ذریعہBaani Singh
کیا کبھی دل کا بٹوارہ بھی ہوا؟
یہ تین کھلاڑی ہی نہیں بلکہ پاکستان اور انڈیا کی سرحد کے دونوں پار ایسی کئی جذباتی کہانیاں اور ان کے مرکزی کردار موجود تھے۔
ایسی ہی کہانی کو مکمل کرنے کے لیے انڈین ڈیزائنر بانی سنگھ نے پاکستان کا سفر کیا تھا جہاں ان کے والد سے جڑی یادیں ہاکی اولمپیئن شہزادہ شاہ رخ کی شکل میں لاہور میں موجود تھیں۔
بانی سنگھ کے والد نندی سنگھ 1948 اور 1952 کے اولمپکس میں انڈیا کی طرف سے کھیلے تھے۔ شہزادہ شاہ رخ سے ان کی دوستی کی وجہ لاہور کا گورنمنٹ کالج تھا جہاں کے پانچ لڑکے 1948 کے لندن اولمپکس میں کھیلے تھے۔
ان میں نندی سنگھ، کیشیو دت، امیر کمار انڈین ٹیم میں شامل تھے جبکہ شہزادہ شاہ رخ اور نیاز خان پاکستانی ٹیم میں شامل تھے۔
بانی سنگھ کہتی ہیں کہ ’میری دلچسپی یہ تھی کہ چونکہ میرے والد نندی سنگھ 1948 کا اولمپکس کھیلے تھے تو میں اس پر کچھ لکھنا چاہتی تھی کیونکہ میرے والد فالج کے حملے کی وجہ بولنے سے محروم ہو گئے تھے۔ میں جب بھی ان سے ہاکی پر بات کرتی ان کے چہرے پر عجیب سی خوشی آ جاتی تھی اور وہ مطمئن دکھائی دیتے تھے۔‘
’وہ جب کوئی بات سمجھا نہیں پاتے تھے تو اپنی ٹیلی فون ڈائریکٹری لاتے اور کسی کا نام بتا کر کہتے کہ اس شخص سے ملو اور معلومات حاصل کرو۔ اسی جستجو میں، میں نے کلکتہ جا کر کیشیو دت کا انٹرویو کیا جو سنہ 1948 کے اولمپکس میں میرے والد کے ساتھ تھے۔‘
بانی سنگھ کہتی ہیں کہ ’مجھے کیا پتا تھا کہ سنہ 1948 اولمپکس سے بڑھ کر بات ایک جیسی جگہ آن رکے گی جس میں ایک دلچسپ کہانی پوشیدہ ہے او وہ ہے لاہور کا گورنمنٹ کالج جہاں میرے والد پڑھے تھے اور ان کی وہاں گہری یادیں وابستہ تھیں۔‘
’میں انہی یادوں کو سمیٹ کر اپنے والد کو خوش کرنے کے ارادے سے سنہ 2014 میں لاہور آئی تھی۔ میں نے لاہور آ کر ان کے کالج کے ساتھی شہزادہ شاہ رخ کو تلاش کیا جو سنہ 1948 میں پاکستانی ہاکی ٹیم کے نائب کپتان تھے اور لاہورگورنمنٹ کالج میں میرے والد کے ساتھ تھے۔‘
بانی سنگھ بتاتی ہیں کہ ’برصغیر کی تقسیم کے وقت شہزادہ شاہ رخ نے لاہور میں ہونے والے خونی فسادات میں اپنے دوست کیشیو دت کی جان بچائی تھی اور انھیں کسی طرح گاڑی کا انتطام کر کے ریلوے سٹیشن پہنچا کر لاہور سے دلی روانہ کیا تھا۔ اس وقت دونوں یہی کہہ رہے تھے کہ مل پائیں گے تو ملیں گے۔‘
جب لاہوری دوست لندن میں دوبارہ ملے
ذرا سوچیے دونوں کی دوبارہ ملاقات کہاں ہوئی؟ جی ہاں یہ دوست لندن اولمپکس میں ملے جہاں کیشیو دت انڈین ٹیم میں تھے اور شہزادہ شاہ رخ پاکستانی ٹیم کے نائب کپتان تھے۔
دونوں اکٹھے کافی پینے باہر جاتے تو دونوں ٹیموں کے مینیجرز کو یہ بات پسند نہیں آئی اور دونوں ملکوں کے درمیان خاص قسم کے تعلقات کے پیش نظر ان کی ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
بانی سنگھ جب لاہور میں شہزادہ شاہ رخ سے ملیں اور انھیں اپنے والد نندی سنگھ اور کیشیو دت کی تصویریں دکھائیں تو وہ ان تصاویر کو چوم رہے تھے اور رو پڑے تھے۔
بانی سنگھ کہتی ہیں کہ ’میں شہزادہ شاہ رخ، اپنے والد نندی سنگھ اور کیشیو دت کو وڈیو کال کے ذریعے ملانا چاہتی تھی لیکن کوئی بھی اس حالت میں ایک دوسرے کو دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔‘
شہزادہ شاہ رخ نے بانی سنگھ سے کہا تھا کہ ’اپنے والد کو میری ویڈیو نہیں دکھانا وہ مجھے اس حالت میں دیکھ کر رو پڑے گا۔‘
شہزادہ شاہ رخ اس وقت وہیل چیئر پر تھے۔











