آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان سپر لیگ میں کراچی کو پھر شکست: ’کراچی ڈولفنز کراچی کنگز کے مقابلے میں کہیں بہتر ٹیم تھی‘
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
قسمت کس وقت روٹھ جائے پتا نہیں چلتا، کراچی کنگز دو سال پہلے پی ایس ایل کی فاتح تھی لیکن اب وہ اپنی پہلی جیت کے لیے ترس رہی ہے۔
جمعے کی شب پشاور زلمی کے خلاف میچ میں ہار اور پی ایس ایل 7 میں لگاتار چوتھی شکست کے بعد پلے آف تک اس کی رسائی کے امکانات اگرچہ ختم نہیں ہوئے ہیں لیکن دھچکہ ضرور پہنچا ہے۔
پی ایس ایل کے پوائنٹس ٹیبل کی آخری نمبر کی دو ٹیموں کے اس میچ میں پشاور زلمی نے نو رنز کی کامیابی کے ذریعے دو اہم پوائنٹس حاصل کر لیے۔
پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پشاور زلمی نے چار وکٹوں کے نقصان پر 173 رنز بنائے۔
کراچی کنگز جواب میں چھ وکٹوں پر 164 رنزبنا سکی۔ بابراعظم کے ناقابل شکست 90 رنز بھی اپنی ٹیم کو شکست سے بچانے میں ناکام رہے۔ انھوں نے یہ رنز 63 گیندوں پر بنائے جن میں بارہ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔
مین آف دی میچ ایوارڈ شعیب ملک کے نام رہا جنھوں نے نصف سنچری بنانے کے علاوہ دو کیچ لیے اور ایک وکٹ حاصل کی۔
ززئی پھر بڑا سکور نہ کر سکے
کراچی کنگز نے ٹاس جیت کر زلمی کو بیٹنگ دی تو سب کی توجہ کا مرکز افغان بیٹسمین حضرت اللہ ززئی تھے جو لاہور قلندرز کے خلاف شاہین آفریدی کے پہلے ہی اوور میں آؤٹ ہوئے تھے۔
اس بار عماد وسیم کے پہلے اوور کی پانچ گیندوں پر بھی ان میں اعتماد کا فقدان نظر آیا تاہم آخری گیند پر وہ چوکا لگانے میں کامیاب ہو گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ززئی اس بار اپنے اصل رنگ میں آنے کے موڈ میں نظر آئے جس کی جھلک انھوں نے عامر یامین کے دوسرے اوور میں دو چھکے اور دو چوکے مار کر دکھائی لیکن 41 کے انفرادی سکور پر ان کی پیشقدمی کو عمید آصف کپتان بابراعظم کے کیچ کے ذریعے روکنے میں کامیاب ہو گئے۔
ززئی کی ستائیس گیندوں پر مشتمل اننگزمیں چھ چوکوں اور دو چھکے شامل تھے۔
کامران اکمل پی ایس ایل میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمینوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ ایک بڑی اننگز ان پر بھی قرض ہے، پچھلے میچ میں 41 رنز بنانے کے بعد اس میچ میں وہ 19 گیندوں پر صرف 21 رنز بنا کر عمید آصف کی دوسری وکٹ بنے۔
حیدر علی بغیر کسی باؤنڈری کے 21 گیندوں پر 16 رنز بنا کر عامر یامین کو وکٹ دے گئے۔
حیدر علی کا ٹیلنٹ اس پی ایس ایل میں کب پوری طرح نظر آئے گا؟ سب کو اس کا انتظار ہے۔ لاہور قلندرز کے خلاف 49 رنز کی اننگز کے علاوہ ابھی تک وہ کوئی قابل ذکر اننگز نہیں کھیل پائے ہیں۔
103 رنز پر تیسری وکٹ گرنے کے بعد پشاور زلمی ایک بڑے سکور کے لیے شعیب ملک اور بین کٹنگ کی طرف دیکھ رہی تھی۔
شعیب ملک کا وسیع تجربہ اس بار بھی اپنی ٹیم کے کام آیا جنھوں نے 28 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے پانچ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 52 رنز ناٹ آؤٹ کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔
بین کٹنگ نے بھی شعیب ملک کا اچھا ساتھ دیا۔ انھوں نے 24 رنز بناتے ہوئے 59 رنز کی شراکت قائم کی۔ وہ عمید آصف کی اس میچ میں تیسری وکٹ بنے۔
یہ بھی پڑھیے
بابراعظم کی سنچری اور جیت سے محروم
کراچی کنگز نے جب اننگز شروع کی تو 174 رنز کا ہدف اس کے لیے قابل رسائی معلوم ہو رہا تھا لیکن سات گیندوں پر گرنے والی دو وکٹوں کے بعد یہ ہدف ماؤنٹ ایورسٹ معلوم ہونے لگا۔
اننگز کی تیسری ہی گیند پر شعیب ملک نے شرجیل خان کو صفر پر آؤٹ کر دیا۔ اگلے ہی اوور میں صاحبزادہ فرحان بھی بغیر کوئی رن بنائے پشاور زلمی کی طرف سےاپنا پہلا میچ کھیلنے والے محمد عمر کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔
کپتان بابر اعظم نے 13ویں گیند پر اپنا پہلا چوکا محمد عمر کی گیند پر مارا تاہم اس کے بعد وہ سلمان ارشاد اور وہاب ریاض کے اوورز میں دو دو چوکے مارنے میں کامیاب رہے۔
ان کے ہر شاٹ پر نیشنل سٹیڈیم کے مختلف انکلوژر سے ہونے والے شور اور تالیوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ شائقین بابر اعظم کی جانب سے ایک بڑی اننگز دیکھنے کے لیے کتنے بیتاب تھے۔
انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے 34 سال کے ای این کاکبین جو پی ایس ایل میں اپنا پہلا میچ کھیل رہے تھے اپنے کپتان کا اچھا ساتھ دینے میں کامیاب رہے۔
انھوں نے پانچ چوکوں کی مدد سے 31 رنز سکور کیے اور تیسری وکٹ کی شراکت میں 74 رنز کا اضافہ پچاس گیندوں میں کیا۔
اس مرحلے پر کراچی کنگز کو جیتنے کے لیے دس اوورز میں 97 رنز درکار تھے۔ محمد نبی صرف دس گیندوں پر اتنے ہی رنز بنا کر حسین طلعت کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔
عامر یامین نے ہاتھ کھولے اور عثمان قادر کے ایک ہی اوور میں دو چھکے مارے تو دوسری جانب بابراعظم نے اپنے دو چوکوں کے درمیان انھوں نے 14 گیندیں کھیل ڈالی تھیں۔
سلمان ارشاد کے آخری اوور میں ان کے لیے گیند کو باؤنڈری کا راستہ دکھانا ممکن نہ ہو سکا۔
کراچی کنگز کو پے در پے دو جھٹکے 18ویں اوور میں اس وقت لگے جب محمد عمر نے عامر یامین کو 20 اور عماد وسیم کو صفر پر آؤٹ کر دیا۔
بابر اعظم اپنی ٹیم کی آخری امید تھے۔ انھوں نے اپنے حریف کپتان وہاب ریاض کے آخری اوور میں ایک چوکا اور ایک چھکا لگایا جو اس ٹورنامنٹ میں ان کا پہلا چھکا تھا۔
کراچی کنگز کو آخری اوورز میں جیت کے لیے 29 رنز بنانے تھے لیکن اس میں 19 رنز بن پائے جن میں بابراعظم کے تین چوکے شامل تھے۔
بابر اعظم کی اننگز کا ایک قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ انھوں نے اپنی اننگز میں 17 گیندیں ایسی کھیلیں جن پر کوئی رن نہ بن سکا ان میں سے آٹھ گیندیں سلمان ارشاد کی تھیں۔
زلمی کے سب سے کامیاب بولر محمد عمر رہے جنھوں نے صرف 22 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔
کراچی کنگز کی ناقص کارکردگی پر ٹیم کے فینز کی جانب سے سوشل میڈیا پر ردعمل میں مایوسی کا اظہار
پی ایس ایل سیون میں کراچی کنگز کی اب تک کی کارکردگری سے ان کے شائقین انتہائی مایوس ہیں اور سوشل میڈیا پر ٹیم انتطامیہ کو آڑے ہاتھ لیتے نظر آ رہے ہیں۔
جہاں ایک جانب کچھ لوگوں کے مطابق بابر اعظم کی 'سلو' بیٹنگ ٹیم کی اس کارکردگی کی وجہ ہے، تو دوسری جانب ایک بڑی تعداد ایسے صارفین کی ہے جو بابر اعظم کے دفاع میں تیار بیٹھے ہیں اور دیگر کھلاڑیوں سے بہتر کھیلنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
لیکن اب تک کے کھیل سے یہ واضح ہوتا چلا آیا ہے کہ کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں ہونے والے ان مقابلوں میں کراچی کی اپنی ٹیم انتہائی بری پرفارمنس دکھا رہی ہے، اور شاید اسی لیے ایک صارف وجیہہ معین میچ کے بعد ٹوئٹر پر لکھتی ہیں، 'کراچی اور اس کے مضافات میں رونے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔'
ایک اور صارف زہرا نے کراچی کنگز کے اکاؤنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ اس بات کو سمجھیں کہ کرکٹ ایک ٹیم گیم ہے اور بابر اکیلے میچ نہیں جتا سکتے۔
'وہ اوپن بھی کرے، فنش بھی کرے، باقی ٹیم ٹائم پاس کرنے آئی ہے کیا؟'
ٹیم انتظامیہ کی حکمت عملی کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے صارف عماد علی لکھتے ہیں کہ پوری ٹیم میں ایک بھی ایسا ایسا کھلاڑی نہیں ہے جو بڑے سٹروک کھیلے۔ وہ لکھتے ہیں: 'بیکار انتظامیہ کی بیکار سیلیکشن'۔
دوسری جانب ایک اور صارف حامد اللہ لکھتے ہیں کہ پشاور کو چاہیے کہ اپنی جیت بابر اعظم کے نام کر دیں جنھوں نے بڑے زبردست طریقے اپنی ہی ٹیم کو شکست سے ہمکنار کرا دیا۔
'آخری دو اوورز میں کچھ شاٹ کھیل کر اپنا سٹرائیک ریٹ بہتر بنا لیا، لیکن بابر کو سمجھنا ہوگا کہ انھیں اپنی ٹیم کی بہتری کے لیے قربانی دینی ہوگی بجائے آخر تک کھیلنے کے۔'
اس تجزیہ کے بالکل مترادف رائے دی صارف انمول فاریہ نے جنھوں نے لکھا کہ 2011 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں یہی ہوا تھا۔
'مصباح نے بہت عمدہ کھیلا لیکن انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا صرف اس لیے کیونکہ وہ آخر تک رکے رہے تھے۔'
پی ایس ایل کے شروع ہونے سے قبل پاکستان کے مقامی ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں سیالکوٹ سٹالینز، فیصل آباد وولفز، اسلام آباد لیوپرڈز وغیرہ جیسی کئی ٹیمیں شامل تھیں جن میں کراچی کی جانب سے کراچی ڈولفنز قومی سطح پر بہترین ٹی ٹوئنٹی ٹیموں میں سے ایک تھی۔
شاید اسی بنا پر صارف اکرامہ لکھتے ہیں: ’کراچی ڈولفنز کراچی کنگز کے مقابلے میں کہیں بہتر ٹیم تھیں۔‘