پی ایس ایل 7: ملتان سلطانز کی لگاتار چوتھی جیت، چھکوں کی بارش، خوشدل شاہ سرپرائز بولر

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان سپر لیگ 7 کی دو سب سے مضبوط ٹیموں اسلام آباد یونائیٹڈ اور ملتان سلطانز کے میچ میں جیت ملتان کی ہوئی۔ 20 رنز سے فتح یاب ملتان سلطانز کی یہ لگاتار چوتھی کامیابی ہے۔

ملتان سلطانز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 217 رنز بنائے جو پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطانز کا اب تک کا سب سے بڑا سکور ہے لیکن اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم کپتان شاداب خان کی 91 رنز کی شاندار اننگز کے باوجود 197 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔

ڈیوڈ اور روسو نے قیامت ڈھا دی

ٹاس جیت کر ملتان سلطانز کو پہلے بیٹنگ دینے والے شاداب خان جس اہم وکٹ کو جلد حاصل کرنا چاہتے تھے وہ انھیں پانچویں اوور میں ملی۔ پچھلے میچ میں صفر کے بعد رضوان اس میچ میں بھی بڑا سکور نہ کر سکے اور 12 رنز بنا کر وسیم جونیئر کی تھرو پر رن آؤٹ ہو گئے۔

شان مسعود اس بار بھی اعتماد سے کھیلے۔ فہیم اشرف اور شاداب خان کو دو چھکوں کے علاوہ پانچ چوکے لگا کر وہ خود کو ایک بڑے سکور کے لیے تیار کرچکے تھے لیکن ڈی لانگے انھیں 43 کے انفرادی سکور پر ایل بی ڈبلیو کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

رائلے روسو کی غلطی کا خمیازہ صہیب مقصود کو 13 رنز پر رن آؤٹ کی شکل میں بھگتنا پڑا۔ آصف علی نے پہلے چوکا بچایا اور پھر ان کا تھرو سیدھا وکٹ کیپر اعظم خان کے ہاتھوں میں آیا۔

78 رنز پر تین وکٹیں گرنے کے بعد رائلے روسو اور ٹم ڈیوڈ کی جارحانہ بیٹنگ نے اسلام آباد یونائیٹڈ کا سکون درہم برہم کر دیا۔

سنگاپور سے تعلق رکھنے والے ٹم ڈیوڈ نے صرف 23 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی۔ رائلے روسو بھی بولنگ کا حشر کرنے میں پیچھے نہ رہے۔

ان دونوں نے فہیم اشرف کے چوتھے اوور میں 21 رنز بنائے جس میں دو چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔ مرچنٹ ڈی لانگے کا آخری اوور بھی ملتان سلطانز کو 23 رنز دے گیا جس میں تین چھکے اور ایک چوکا شامل تھا۔

بولنگ میں حسن علی نے بھی نصف سنچری مکمل کی۔ ان کے چار اوورز میں 52 رنز بنے اور ان کے آخری اوور میں رائلے روسو کے تین چھکے شامل تھے۔

مرچنٹ ڈی لانگے 48 اور فہیم اشرف 47 رنز دینے کے خطا وار ٹھہرے۔

110 رنز کی شاندار شراکت محمد وسیم جونیئر کی گیند پر اعظم خان کے ہاتھوں ٹم ڈیوڈ کے کیچ ہونے پر ختم ہوئی۔ انھوں نے صرف 29گیندوں کا سامنا کیا اور چھ چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے 71 رنز کی باکمال اننگز کھیلی۔

رائلے روسو 67 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ 35 گیندوں کی اس اننگز میں چار چوکے اور چھ چھکے شامل تھے۔

ان دونوں کی شراکت میں جو صرف پچاس گیندوں پر مشتمل تھی مجموعی طور پر نو چھکے اور نو چوکے شامل تھے۔

ملتان سلطانز کی اس جارحانہ بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے آخری دس اوورز میں 144 اور آخری پانچ اوورز میں 93 رنز بنائے۔

یہ بھی پڑھیے

خوشدل شاہ سرپرائز بولر

اس پی ایس ایل کے سب سے بڑے سکور تک پہنچنے کے لیے اسلام آباد یونائیٹڈ کو جس بڑی شراکت کی ضرورت تھی وہ نہ بن سکی۔ پال اسٹرلنگ نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز سے ٹیک آف کیا لیکن یہ فلائٹ اس مرتبہ صرف 19 رنز پر لینڈ کر گئی۔

ان کے آؤٹ ہونے کے بعد الیکس ہیلز اسلام آباد کی بڑی امید تھے لیکن ڈیوڈ ولی نے انھیں صرف 23 رنز پر واپسی دکھا دی۔

اس کے بعد چونکا دینے والے بولر خوشدل شاہ کی انٹری ہوئی جنھوں نے پہلے ہی اوور میں رحمن اللہ گرباز اور فہیم اشرف کی وکٹیں لے کر ہلچل مچا دی۔

خوشدل شاہ اپنے تیسرے اوور میں اعظم خان اور چوتھے اوور میں آصف علی کی وکٹ بھی لے اڑے حالانکہ اس اوور میں آصف علی ان کی گیندوں پر دو چھکے لگا چکے تھے لیکن ہوش کے بجائے جوش دکھانے کا نتیجہ سب کے سامنے تھا۔

شاداب خان کھل کر کھیلے لیکن دوسرے اینڈ پر گرنے والی وکٹوں کے نتیجے میں انھیں کوئی بھی قابل بھروسہ پارٹنرنہ مل سکا اور ان کی یہ تنہا کوشش جیت کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔

شاداب خان نے پانچ چوکوں اور نو چھکوں کی مدد سے 91 رنز بنائے جو ان کے ٹی ٹوئنٹی کریئر کا بہترین سکور بھی ہے۔

محمد رضوان نے جس انداز سے خوشدل شاہ کو بولر کے طور پر متعارف کرایا وہ ان کی ذہانت کا پتا دیتا ہے۔ پچھلے میچ میں تین وکٹیں لینے والے خوشدل شاہ نے اس بار کریئر بیسٹ بولنگ کرتے ہوئے 35 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔

ڈیوڈ ولی نے پچھلے میچ کی طرح اس بار بھی آخری اوور میں وکٹ لے کر جیت کو مکمل کیا۔ دونوں مرتبہ وہ تین تین وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

جب دوست حریف بننے لگے

پاکستان سپر لیگ میں کھیلنے والے پاکستانی کرکٹرز جب پی ایس ایل میں آتے ہیں تو دوستی ایک طرف ہو جاتی ہے اور میدان میں وہ سخت جان حریف بن جاتے ہیں۔

پی ایس ایل 7 کو بھی انھی روایتی حریفوں کی نظر سے دیکھا جارہا ہے مثلاً ملتان سلطانز اور کراچی کنگز کے افتتاحی میچ کو بابر اعظم بمقابلہ محمد رضوان کا نام دیا گیا تھا۔

لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز کے میچ میں سب کی نگاہیں شاہین آفریدی اور محمد رضوان پر مرکوز تھیں اور پھر جب کراچی کنگز لاہور قلندرز کے مقابل آئی تو یہ بابر اعظم اور شاہین آفریدی کا مقابلہ ٹھہرا۔

ملتان سلطانز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے میچ میں بھی نظریں محمد رضوان اور حسن علی پر لگی ہوئی تھیں لیکن یہ ٹاکرا صرف دو گیندوں کا ہو سکا۔